Technology
اونکار سنگھ بترا کا اسپیس اسٹارٹ اپ، 4.3 ملین ڈالر فنڈنگ حاصل
جموں سے تعلق رکھنے والے کم عمر کاروباری شخصیت اونکار سنگھ بترا نے کم عمری میں ہی ٹیکنالوجی کی دنیا میں نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ اب انہوں نے اپنے اسپیس اسٹارٹ اپ کے لیے چار اعشاریہ تین ملین ڈالر کی خطیر رقم اکٹھی کر لی ہے۔
جموں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اور باصلاحیت کاروباری شخصیت اونکار سنگھ بترا نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اور شاندار سنگ میل عبور کرتے ہوئے اپنے اسپیس اسٹارٹ اپ کے لیے چار اعشاریہ تین ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی ہے۔ اونکار سنگھ کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عزم پختہ ہو تو عمر کی کم علمی کامیابی کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔ اونکار نے محض سات سال کی عمر سے ہی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹرز کی دنیا میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی اور کم عمری ہی میں گینز ورلڈ ریکارڈز میں اپنا نام درج کروا لیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بارہ سال کی عمر میں ایک کتاب بھی لکھی اور تیرہ سال کی عمر میں اپنی پہلی کمپنی کی بنیاد رکھی۔ ان کی یہ ابتدائی کامیابیاں ان کے غیر معمولی ذہین اور تخلیقی ذہن کی عکاسی کرتی ہیں۔ سولہ سال کی عمر میں اونکار سنگھ بترا نے 'ان کیوب' نامی ایک اوپن سورس سیٹلائٹ تیار کیا، جس نے انہیں مدار میں موجود مصنوعی سیاروں کو درپیش مواصلاتی اور تکنیکی مسائل سے روشناس کرایا۔ سیٹلائٹ کی تیاری کے دوران انہیں اندازہ ہوا کہ کم زمینی مدار میں کام کرنے والے سیاروں کو آپس میں رابطے کے دوران کن رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی تکنیکی خلا کو پر کرنے اور اسپیس انڈسٹری میں جدید حل فراہم کرنے کے لیے انہوں نے اپنے اس خیال کو ایک کاروباری منصوبے کی شکل دی۔ اب جبکہ انہوں نے لاکھوں ڈالرز کی فنڈنگ حاصل کر لی ہے، ان کا یہ اسٹارٹ اپ خلائی ٹیکنالوجی کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اونکار سنگھ جیسے نوجوان دنیا بھر کے طلباء اور ابھرتے ہوئے کاروباری حضرات کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف جموں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے نوجوانوں کے لیے فخر کا باعث ہے، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں نئی راہیں تلاش کرنا اب محض بڑوں کا کام نہیں رہا۔