Technology
گوگل پিক্সেল ۱۱ پرو اور اینڈرائیড اپ گریڈز کا نیا رجحان
گوگل کے نئے فلیگ شپ سمارٹ فون پিক্সেল ۱۱ پرو کے اعلانات نے صارفین اور ٹیک ماہرین کو مایوس کر دیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے اور ریم میں کمی جیسے اقدامات سے اینڈرائیড مارکیٹ میں ایک پریشان کن رجحان جنم لے رہا ہے۔
گوگل کی جانب سے پিক্সেল ۱۱ پرو کا اعلان ٹیک دنیا میں ایک گرما گرم بحث کا موضوع بن گیا ہے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ اس فلیگ شپ فون کے ساتھ جڑے کچھ مایوس کن فیصلے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ گوگل نے ایک طرف اپنے فلیگ شپ سمارٹ فونز کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، تو دوسری طرف پرو ماڈلز کے بیس ویرینٹ میں ریم کی مقدار کو کم کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ اگرچہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ ۱۲ جی بی ریم روزمرہ کے کاموں کے لیے ناکافی نہیں ہے، لیکن پریمیم قیمت ادا کرنے کے باوجود ہارڈ ویئر میں کمی کرنا کسی بھی طرح سے ایک اچھے مستقبل کے رجحان کی عکاسی نہیں کرتا۔ یہ صورتحال صرف ایک فون تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری اینڈرائیড انڈسٹری کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر رہی ہے جہاں کمپنیاں زیادہ قیمتیں وصول کر کے بھی صارفین کو بہتر یا اپ گریডেڈ ہارڈ ویئر فراہم کرنے میں بخل سے کام لے رہی ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں سمارٹ فونز کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور اس دوران صارفین یہی توقع کرتے ہیں کہ انہیں ہر نئی نسل کے ساتھ بہتر پروسیسر، زیادہ بیٹری لائف اور زیادہ میموری ملے گی۔ تاہم، جب اس کے برعکس فیصلے کیے جاتے ہیں تو اس سے برانڈ پر صارفین کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ گوگل جیسے بڑے برانڈ کا اس قسم کی پالیسی اپنانا دیگر اینڈرائیড مینوفیکچررز کے لیے بھی ایک راہ ہموار کر سکتا ہے، جو مستقبل میں سستے یا درمیانے درجے کے فیچرز کو مہنگے داموں فروخت کرنے کا جواز فراہم کرے گا۔ ٹیک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر گوگل اور دیگر کمپنیاں اس روش پر قائم رہیں تو صارفین کے لیے مناسب قیمت میں بہترین ٹیکنالوجی کا حصول ناممکن ہو جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مارکیٹ اس نئے رجحان کو کیسے قبول کرتی ہے اور کیا آنے والے دنوں میں مقابلے کی فضا صارفین کو کوئی ریلیف دے پائے گی یا نہیں۔