Technology
اے آئی ایجنٹ نے ایک ہزار ڈالر اڑا دیے، سی ای او کا انتباہ
برینڈن جنکنز نامی ایک سی ای او نے انکشاف کیا ہے کہ وہ رات کے کھانے میں مصروف تھے جب ان کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹ نے خودکار طور پر ایک ہزار ڈالر کے ٹوکن ضائع کر دیے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی میں سکیورٹی کی خامیاں اور کمزوریاں سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت (AI) کے چرچے ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے غیر متوقع اور بعض اوقات خطرناک مالی نقصانات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ ایک معروف کمپنی کے سی ای او برینڈن جنکنز کے ساتھ ایسا ہی ایک عجیب واقعہ پیش آیا جب وہ ایک روز رات کے کھانے پر باہر گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنے فون پر اے آئی کے استعمال کا ڈیش بورڈ چیک کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے ویک اینڈ کوڈنگ سیشن کے دوران اے آئی ایجنٹ نے خودکار طور پر ایک ہزار ڈالر کے ٹوکن ضائع کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح بغیر مناسب نگرانی کے اے آئی سسٹمز مالی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد برینڈن جنکنز نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سکیورٹی اور حفاظت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اے آئی سسٹمز میں پائے جانے والے حفاظتی نقائص اور عدم تحفظ (Insecurity) اس وقت ٹیکنالوجی انڈسٹری کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکے ہیں۔ جب سسٹمز کو خود مختار فیصلے کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، تو بعض اوقات معمولی نوعیت کی غلطیاں بھی بہت بڑے مالی خسارے کا باعث بن جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ٹیکنالوجی روزمرہ کے امور اور کوڈنگ میں عام ہوتی جا رہی ہے، کمپنیاں اپنے اے آئی ایجنٹس پر حد سے زیادہ انحصار کرنے لگی ہیں۔ اس کے نتیجے میں اگر مناسب حفاظتی اقدامات یا اخراجات کی حد (spending limits) مقرر نہ کی جائے، تو اس طرح کے مالی جھٹکے معمول بن سکتے ہیں۔ برینڈن جنکنز کے اس انکشاف نے ٹیکنالوجی کے ماہرین کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا ہم ان خودمختار سسٹمز پر بھروسہ کرنے کے لیے واقعی تیار ہیں یا نہیں۔ اس واقعے نے اس مباحثے کو بھی تازہ کر دیا ہے کہ اے آئی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے فریم ورک کو محفوظ بنانے اور غیر متوقع اخراجات کو روکنے کے لیے فوری طور پر سخت اصول و ضوابط بنانے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچنے کے لیے کمپنیوں کو اپنے سسٹمز کی کڑی نگرانی کرنا ہو گی تاکہ صارفین کو اس طرح کے غیر متوقع مالی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔