Politics
نئے صوبے بنانے کی بحث اور اصل عوامی مسائل کا حل
ملک میں نئے صوبے بنانے کی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف انتظامی ڈھانچہ پھیلانے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ اصل ضرورت شفاف حکمرانی، کرپشن کا خاتمہ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے۔
ملک میں جب بھی عوامی مسائل، پسماندگی، انتظامی کمزوری اور حکومتی ناکامیوں کی بات ہوتی ہے تو ایک نیا صوبہ بنانے کی تجویز کو اکثر ایک بڑے حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ انتظامی سہولت کے لیے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل بعض حالات میں مفید ہو سکتی ہے، لیکن یہ سمجھنا کہ صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے، نئے اضلاع یا صوبے بنانے سے عوام کی زندگی بدل جائے گی، حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ اگر ہر یونین کونسل کو بھی صوبے کا درجہ دے دیا جائے، تب بھی عوام کے بنیادی مسائل اس وقت تک حل نہیں ہوں گے جب تک حکمرانی کا نظام شفاف، جواب دہ اور عوام دوست نہیں بنایا جاتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ملک میں کتنے صوبے ہیں، کتنے اضلاع ہیں یا کتنی اسمبلیاں قائم کی جا سکتی ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ وسائل عوام تک کتنے پہنچ رہے ہیں۔
ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ دیکھا ہے کہ نئے ادارے بن جاتے ہیں، نئے عہدے پیدا ہو جاتے ہیں، نئی عمارتیں تعمیر ہو جاتی ہیں اور انتظامی ڈھانچے میں اضافہ ہو جاتا ہے، مگر عام آدمی کے مسائل اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ نظام کی کمزوری، بدانتظامی، کرپشن، سیاسی مداخلت، اقرباپروری اور احتساب کے مؤثر نظام کا فقدان ہے۔ صوبوں کی تعداد بڑھانے سے زیادہ ضروری عوام کے مسائل کم کرنا ہے۔ اگر ایک شہری کو اپنے بچے کے لیے معیاری اسکول نہیں ملتا، علاج کے لیے مناسب اسپتال نہیں ملتا، نوجوان کو روزگار نہیں ملتا، کسان کو پانی اور سہولتیں نہیں ملتیں اور ایک غریب خاندان مہنگائی کے بوجھ تلے دب جاتا ہے تو اسے اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ اس کے علاقے کا انتظام ایک صوبے سے ہو رہا ہے یا دوسرے صوبے سے۔ عوام کو نئے نام، نئے نقشے اور نئے عہدے نہیں بلکہ بہتر حکمرانی، انصاف اور بنیادی سہولیات درکار ہیں۔
خصوصاً بلوچستان جیسے وسیع اور پسماندہ صوبے میں مسئلہ صرف انتظامی فاصلے کا نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، اداروں کی کارکردگی، روزگار کے مواقع، تعلیم و صحت کی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے مؤثر نفاذ کا بھی ہے۔ اگر موجودہ نظام میں مختص وسائل ہی شفاف طریقے سے خرچ نہیں کیے جا رہے تو مزید صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے سے صورتحال کیسے تبدیل ہو سکتی ہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ نئے صوبے بنانے کے بعد نئی اسمبلیاں، نئے سیکریٹریٹ، نئے محکمے، نئی انتظامی مشینری اور دیگر اخراجات کہاں سے پورے کیے جائیں گے؟ اگر ریاست پہلے ہی مالی دباؤ کا شکار ہو تو کیا انتظامی ڈھانچے کو مسلسل پھیلانا دانشمندانہ پالیسی ہوگی؟ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی ضرورت کبھی نہیں ہو سکتی، لیکن فیصلہ سیاسی نعروں کے بجائے عوامی ضرورت اور معاشی استطاعت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
لہٰذا اگر ہم واقعی عوام کی زندگی میں تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں صوبوں کی تعداد بڑھانے کی بحث سے آگے بڑھ کر نظامِ حکمرانی کی اصلاح پر توجہ دینا ہوگی۔ کرپشن کا خاتمہ، شفاف احتساب، میرٹ کی بالادستی، اداروں کی خودمختاری، تعلیم اور صحت میں سرمایہ کاری، نوجوانوں کے لیے روزگار، بلدیاتی اداروں کی مضبوطی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہی وہ اقدامات ہیں جو عوام کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ ہر یونین کونسل کو صوبہ بنا دیں، مگر اگر نظام وہی رہے تو مسائل بھی وہی رہیں گے۔ عوام کو صوبوں کی نہیں، بااختیار اور جواب دہ حکومت، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہے کیونکہ اصل تبدیلی نقشے پر نئی سرحدیں کھینچنے سے نہیں، نظام کو درست کرنے سے آتی ہے۔