LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں ٹرانسپورٹرز ہڑتال کے بعد فریٹ چارجز میں بڑا اضافہ

News Image
پاکستان میں ٹرانسپورٹرز کی مسلسل ہڑتال کے باعث مال برداری کے اخراجات میں 372 فیصد تک غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سندھ کے وزيراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا۔
پاکستان میں ٹرانسپورٹرز کی جانب سے شروع کی جانے والی ہڑتال کے ملکی معیشت اور تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہڑتال کے نویں روز تک پہنچنے پر مال برداری (فریٹ) کے اخراجات میں حیرت انگیز طور پر 372 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال نے تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے، کیونکہ سپلائی چین کے رکنے سے اشیائے خوردونوش اور دیگر برآمدی و درآمدی سامان کی نقل و حمل ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔ تجارتی تنظیموں اور کاروباری رہنماؤں نے حکومت سے فوری اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس بحران پر قابو پایا جا سکے۔ دوسری جانب، اس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے بیشتر بنیادی مسائل کو حل کے قریب لایا جا چکا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی معاملات طے پا جائیں گے۔ ہڑتال کے نویں روز حکومتی نمائندوں اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان کامیاب مذاکرات کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ کے پہیہ کو دوبارہ رواں دواں کرنے میں مدد ملے گی۔ کاروبار اور تجارت سے وابستہ ممتاز شخصیات بشمول انجم نثار نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شپنگ ریٹس میں تین سو فیصد سے زائد کا یہ جمپ ملکی برآمدات اور افراط زر پر انتہائی منفی اثرات ڈالے گا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرے تاکہ تاجروں اور عام عوام کو اس مالی بوجھ سے نجات دلائی جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل بحال نہ ہوا تو مارکیٹ میں اشیاء کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔