Technology
علی ایکسپریس پر صارفین کی خفیہ آڈیو ٹریکنگ کا سنگین الزام
مشہور بریਵ براؤزر نے دعویٰ کیا ہے کہ علی ایکسپریس کی ایپ صارفین کے آڈیو سسٹمز کے ذریعے خفیہ طور پر ڈیوائس فنگر پرنٹنگ کرتی ہے۔ یہ تمام ڈیٹا مبینہ طور پر علی بابا کے اپنے سرورز کو منتقل کیا جا رہا تھا۔
معروف پرائیویسی فوکسڈ بریਵ براؤزر نے ای کامرس کی دنیا کی بڑی کمپنی علی بابا کے ذیلی ادارے علی ایکسپریس پر انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق بریਵ نے دعویٰ کیا ہے کہ علی ایکسپریس کی موبائل ایپ صارفین کے سسٹمز اور آڈیو فیچرز کو انتہائی رازداری اور مکاری کے ساتھ استعمال کرتے ہوئے ڈیوائس فنگر پرنٹنگ کا عمل انجام دے رہی ہے۔ اس عمل کا مقصد صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو بغیر ان کی اجازت کے ٹریک کرنا اور ان کی ڈیجیٹل شناخت کو محفوظ بنانا ہے۔
تحقیقاتی تفصیلات کے مطابق اس خفیہ ٹریکنگ کے دوران جو ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے، اسے براہ راست علی بابا کے ملکیتی سرورز پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ پرائیویسی کے حامیوں اور ماہرین نے اس عمل کو صارفین کے بنیادی حقوق اور ڈیجیٹل پرائیویسی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ موجودہ دور میں فنگر پرنٹنگ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ٹریکنگ کی ایک ایسی جدید شکل ہے جس کے ذریعے صارفین کی رضامندی کے بغیر ان کا مکمل پروفائل تیار کیا جاتا ہے تاکہ انہیں نشانہ بنایا جا سکے۔
ابھی تک علی بابا یا علی ایکسپریس کی انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ یا تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم ٹیکنالوجی اور سکیورٹی کے حلقوں میں اس خبر کے بعد شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی موبائل ایپ کی اجازتوں (Permissions) کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں اور غیر ضروری ایپس سے ہوشیار رہیں۔
بریਵ براؤزر کی جانب سے سامنے آنے والی اس رپورٹ نے ایک بار پھر بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ای کامرس ایپس کی جانب سے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر ریگولیٹری اداروں اور پرائیویسی واچ ڈاگز کی جانب سے مزید تحقیقات متوقع ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کتنے صارفین اس خفیہ ٹریکنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔