LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں صفائی کا بحران، فلسطینی پتھر کے دور کے بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور

News Image
غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور شدید پناہ گزیں بحران کی وجہ سے فلسطینی شہری غیر محفوظ اور غیر صحت مند بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس سنگین صورتحال نے علاقے میں صحت عامہ کے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔
غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ نے انسانی حقوق اور بنیادی سہولیات کا شدید بحران پیدا کر دیا ہے، جہاں بے گھر ہونے والے لاکھوں فلسطینیوں کو روزمرہ کی بنیادی ضروریات بالخصوص صاف ستھرے اور محفوظ بیت الخلا کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ موجودہ سنگین حالات کے باعث لوگ ایسے پرانے اور غیر صحت مند طریقوں یا عارضی انتظامات پر انحصار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جنہیں مبصرین 'پتھر کے دور' سے تشبیہ دے رہے ہیں۔ پناہ گزین کیمپوں میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو انتہائی غیر محفوظ ماحول میں زندگی گزارنا پڑ رہی ہے۔ صحت کے عالمی اداروں اور مقامی ذرائع کے مطابق غزہ میں نکاسی آب کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے، جس سے وبائی امراض کے پھیلنے کا خطرہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ صاف پانی اور صابن جیسی بنیادی چیزوں کی عدم دستیابی نے سینیٹری بحران کو ایک بڑے انسانی المیے میں بدل دیا ہے۔ بے گھر افراد کو بیت الخلا استعمال کرنے کے لیے گھنٹوں لمبی لائنوں میں انتظار کرنا پڑتا ہے اور پرائیویسی کا فقدان خواتین کے لیے ایک الگ اذیت بن چکا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی برادری کی توجہ غزہ کے انسانی بحران کی طرف دوبارہ مبذول کرائی ہے، تاہم ناکافی امدادی رسد کی وجہ سے صورتحال میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ کی گئی اور طبی و صفائی کا سامان غزہ میں داخل نہ کیا گیا، تو یہ سینیٹری بحران ایک بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔ فلسطینی عوام نہ صرف بمباری کا شکار ہیں بلکہ وہ بنیادی انسانی حقوق اور حفظان صحت کے اصولوں سے بھی محروم کیے جا چکے ہیں۔