LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی معیشت بحران کا شکار، بڑھتے قرضے نظر انداز

News Image
اسرائیل کو جنگوں اور ٹیکس آمدنی میں کمی کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ملک میں اعلیٰ تنخواہ کمانے والے افراد کے انخلا سے ملکی معیشت مزید کمزور ہو رہی ہے۔
اسرائیل کی سیاسی قیادت کی تمام تر توجہ اس وقت بیرونی خطرات اور سکیورٹی امور پر مرکوز ہے، جبکہ ملک کے اندرونی معاشی حالات انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جاری تنازعات اور جنگوں کے باعث قومی خزانے پر بوجھ میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، اور حکومت کو مالیاتی محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ دفاعی اخراجات میں بے پناہ اضافے اور معاشی سرگرمیوں کے سست پڑنے کی وجہ سے ملکی قرضے تیزی سے اوپر جا رہے ہیں۔ ایک طرف جنگی صورتحال کے اخراجات ہیں تو دوسری طرف ٹیکسوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس نے مالیاتی خسارے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس معاشی دباؤ کا ایک اور بڑا سبب اعلیٰ تعلیم یافتہ اور زیادہ آمدنی والے طبقے کا ملک چھوڑ کر جانا ہے۔ ملک کے مایہ ناز ٹیکس دہندگان اور ہنر مند افراد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں، جس سے ٹیکس کی بنیاد مزید کمزور ہو رہی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس سنگین معاشی بحران اور بڑھتے ہوئے قرضوں کے بوجھ پر بروقت اور موثر توجہ نہ دینے کی وجہ سے مستقبل میں معیشت کے مزید بیٹھ جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ سیاسی منظر نامے پر سکیورٹی کے معاملات سب سے اوپر ہیں، لیکن معاشی ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ اندرونی مالیاتی تباہی بھی اتنی ہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جتنا کہ کوئی بیرونی خطرہ۔ حکومت کو فوری طور پر اپنی ترجیحات کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا تاکہ ملک کو اس مالی دلدل سے نکالا جا سکے، بصورت دیگر اسرائیل کو طویل المدتی معاشی جمود کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔