LIVE
Loading Breaking News...

ایف ٹی سی کے مصنوعی ذہانت کے مقدمات اور مارکیٹنگ کی دھوکہ دہی

News Image
امریکہ کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن نے ستمبر 2024 میں آپریشن اے آئی کمپلائی کے آغاز کے بعد سے کم از کم 13 نفاذی کارروائیاں کی ہیں۔ یہ تمام مقدمات مصنوعی ذہانت کے غلط دعووں یا مارکیٹنگ کی دھوکہ دہی سے متعلق ہیں جنہیں اے آئی واشنگ کہا جاتا ہے۔
امریکہ کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (এফ ٹی سی) نے ستمبر 2024 میں 'آپریشن اے آئی کمپلائی' کے آغاز کے بعد سے اب تک مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق کم از کم تیرہ نفاذی کارروائیاں کی ہیں۔ تاہم، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک بھی مقدمہ خود مصنوعی ذہانت کے نظام یا ایجنٹ کے اصل رویے کو ہدف نہیں بناتا، بلکہ تمام کارروائیوں کا محور مارکیٹنگ میں کی جانے والی دھوکہ دہی ہے۔ اس رجحان کو عام طور پر 'اے آئی واشنگ' (AI washing) کہا جاتا ہے، جہاں کمپنیاں اپنی مصنوعات میں مصنوعی ذہانت کی حقیقی صلاحیتوں سے بڑھ کر دعوے کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایف ٹی سی کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائیاں بنیادی طور پر روایتی صارفین کے حقوق کے تحفظ اور گمراہ کن اشتہارات کے قوانین کے تحت آتی ہیں۔ جب کمپنیاں اپنے عام سافٹ ویئر یا عام الگورتھم کو جدید ترین مصنوعی ذہانت کے طور پر فروخت کرتی ہیں، تو ریگولیٹری ادارے اس دھوکہ دہی کا نوٹس لیتے ہیں۔ تاہم، اس نفاذی حکمت عملی کا مطلب یہ ہے کہ کمیشن ابھی تک خود اے آئی ماڈلز کے خودمختار فیصلوں، تعصبات، یا خطرناک رویوں کو ریگولیٹ کرنے کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس اور خودکار سسٹمز زیادہ پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، ریگولیٹرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ محض مارکیٹنگ کے دعووں سے آگے بڑھیں۔ اے آئی سسٹمز کے روزمرہ کے رویے، ڈیٹا کی رازداری، اور صارف کی حفاظت سے جڑے مسائل کو حل کرنے کے لیے نئے اور مخصوص قوانین کی اشد ضرورت ہے۔ آنے والے مہینوں میں ایف ٹی سی کی پالیسیوں میں اس تبدیلی کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔