LIVE
Loading Breaking News...

ایم آئی ٹی ڈراپ آؤٹس نے کرسر اے آئی ٹول ساٹھ ارب ڈالر میں فروخت کر دیا

News Image
میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے چار سابق طلباء نے اپنی ناکام ابتدائی کوشش کو ایک کامیاب مصنوعی ذہانت کے ادارے میں تبدیل کر دیا۔ ان کی تیار کردہ کمپنی اینی اسفیئر اور اس کے اے آئی کوڈنگ ٹول کرسر کو اربوں ڈالر کے عوض خرید لیا گیا ہے۔
میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے چار نوجوان طالب علموں نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر تاریخ رقم کر دی ہے اور دنیا کو ایک نیا مصنوعی ذہانت کا شاہکار دے دیا ہے۔ ان نوجوانوں نے اپنی ناکام ہونے والی پہلی کوشش کو ایک شاندار کامیابی میں بدلتے ہوئے 'اینی اسفیئر' نامی کمپنی کی بنیاد رکھی، جس نے مقبول ترین اے آئی کوڈنگ ٹول 'کرسر' تیار کیا ہے۔ یہ تمام بانیان عمر میں ستائیس سال سے کم ہیں اور ان کی اس کامیابی نے دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کی دنیا کو دنگ کر دیا ہے۔ ابتدائی دنوں میں ان نوجوانوں نے مکینیکل انجینئرز کے لیے ایک مصنوعی ذہانت کے معاون پر کام شروع کیا تھا، جو ان کا پہلا خیال تھا اور وہ بظاہر ناکام ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم، انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور وقت کی نبض کو پہچانتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کی۔ اس کامیاب موڑ کے بعد انہوں نے سافٹ ویئر ڈویلپرز کے لیے کوڈنگ کو آسان اور تیز بنانے کی غرض سے 'کرسر' نامی اے آئی ٹول کی تالیف پر توجہ مرکوز کی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ اس ٹول کی بے پناہ مقبولیت اور کارکردگی کو دیکھتے ہوئے، ایلون مسک کی معروف خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے آگے بڑھ کر اس کمپنی کو ساٹھ ارب ڈالر کے خطیر عوض خریدنے کا اعلان کیا۔ اس بڑی ڈیل نے ان چاروں نوجوانوں کو دنیا کے کم عمر ترین کامیاب ترین کاروباری افراد کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو اور وقت کے تقاضوں کے مطابق لائحہ عمل بدلنے کی صلاحیت موجود ہو، تو ناکامیوں کو بھی فتوحات میں بدلا جا سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین اس ڈیل کو جدید سافٹ ویئر انڈسٹری کا ایک بہت بڑا سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں کوڈنگ کے روایتی طریقوں میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور 'کرسر' جیسے ٹولز اس انقلاب میں سب سے آگے ہیں۔ یہ کہانی دنیا بھر کے نوجوان ڈویلپرز اور نئے کاروباری حضرات کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ کس طرح مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ایک انقلابی خیال کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔