LIVE
Loading Breaking News...

انتھروپک آئی پی او اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت

News Image
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انتھروپک ایک بڑے آئی پی او کی تیاری کر رہی ہے تاہم اسے پبلک مخالفت کا سامنا ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ کمپنی اسپیس ایکس کا ریکارڈ توڑنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں نمایاں مقام رکھنے والی کمپنی انتھروپک نے اپنے متوقع ابتدائی عوامی حصص یعنی آئی پی او کی تیاریاں شروع کر دی ہیں جو تاریخ کے سب سے بڑے آئی پی او میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مالیاتی سفر کے دوران کمپنی نے ممکنہ سرمایہ کاروں کو خبردار کیا ہے کہ جس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر اس کی مارکیٹ ویلیو میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے، اسی کو عوام اور مختلف حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق اے آئی سسٹمز اور ان کے لیے درکار وسیع و عریض ڈیٹا سینٹرز کے ماحول اور معاشرے پر پڑنے والے اثرات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بجلی کی بھاری کھپت، ماحولیاتی اثرات اور ڈیٹا کی رازداری کے مسائل وہ بڑے عوامل ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے خلاف تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتھروپک اور دیگر اے آئی کمپنیاں جس تیزی سے انفراسٹرکچر کو وسعت دے رہی ہیں، وہ آنے والے وقتوں میں توانائی کے بحران کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے باوجود، وال اسٹریٹ اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد انتھروپک کے حصص میں گہری دلچسپی لے رہی ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ میں منافع کے مواقع تاحال بہت زیادہ ہیں۔ اب یہ بڑا سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا انتھروپک اس شدید مخالفت کے باوجود اسپیس ایکس کے مالیاتی ریکارڈ کو توڑنے میں کامیاب ہو پائے گی یا نہیں۔ اسپیس ایکس نے اپنی غیر معمولی کامیابیوں اور خلائی شعبے میں اجارہ داری کی بدولت سرمایہ کاری کی دنیا میں نئے سنگ میل عبور کیے ہیں۔ انتھروپک کے لیے اس ہدف تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ریگولیٹری ادارے بھی اب اے آئی کمپنیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور شفافیت کے تقاضے مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد ہی اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ انتھروپک کا یہ قدم کتنا کامیاب ثابت ہوتا ہے۔