LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کی متبادل سرمایہ کاری مارکیٹ 2034 تک دو ٹریلین ڈالر تک متوقع

News Image
جولیئس بیئر اور ای وائی کی نئی رپورٹ کے مطابق بھارت کی متبادل سرمایہ کاری مارکیٹ میں نمایاں اضافے کا امکان ہے۔ زیادہ دولت مند سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس مارکیٹ کو فروغ دے رہی ہے۔
بھارت کی متبادل سرمایہ کاری مارکیٹ میں آئندہ ایک دہائی کے دوران حیرت انگیز اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ جولیئس بیئر اور ارنسٹ اینڈ ইয়ং (ای وائی) کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی متبادل سرمایہ کاری مارکیٹ 2034 تک پانچ گنا سے زائد بڑھ کر دو ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس تیز رفتار ترقی کی بڑی وجہ زیادہ دولت مند افراد کی جانب سے بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری اور روایتی اثاثوں کے علاوہ زیادہ منافع بخش متبادل ذرائع کی مانگ میں اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت میں معاشی استحکام اور مالیاتی شعبے کی ترقی نے نجی ایکویٹی، وینچر کیپٹل اور دیگر متبادل فنڈز میں دلچسپی کو مزید تیز کر دیا ہے۔ سرمایہ کار اب روایتی اسٹاک مارکیٹ اور بینک ڈپازٹس کے علاوہ ایسے شعبوں کا رخ کر رہے ہیں جہاں رسک اور ریٹرن کا تناسب زیادہ پرکشش ہو۔ ملک کے ابھرتے ہوئے کاروباری ماحول اور اسٹارٹ اپ کلچر کی وجہ سے بھی متبادل سرمایہ کاری کے مواقع میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مستقبل کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریگولیٹری فریم ورک سازگار رہا اور ملکی معیشت اسی رفتار سے ترقی کرتی رہی تو مقررہ ہندسے تک پہنچنا ممکن ہوگا۔ ہائی نیٹ ورتھ انویسٹرز کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک کے مالیاتی نظام میں ایک اہم تبدیلی لے کر آ رہی ہے، جو طویل مدت میں معیشت کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔ اس طرح کی پیشرفتیں نہ صرف سرمایہ کاروں کے لیے نئے دروازے کھولتی ہیں بلکہ مجموعی کاروباری سرگرمیوں کو بھی وسعت دیتی ہیں۔