Technology
ہیومنائیڈ روبوٹس کی دنیا میں نئی پیش رفت اور ٹیکنالوجی کا مستقبل
سماجی روبوٹکس کی ماہر نیومی فٹر نے انکشاف کیا ہے کہ انسانی شکل کے روبوٹس (ہیومنائیڈز) تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز میں ہونے والی حالیہ پیش رفت اور اس کے انسانی زندگی پر اثرات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔
انسانی شکل سے مشابہت رکھنے والے روبوٹس، جنہیں ہیومنائیڈز کہا جاتا ہے، آج کل دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس شعبے میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صنعت اب ایک اہم موڑ یا ٹپنگ پوائنٹ پر پہنچ چکی ہے۔ حالیہ برسوں میں انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج نے روبوٹس کو نہ صرف زیادہ چالاک بلکہ زیادہ حقیقت پسندانہ بھی بنا دیا ہے۔
اس حوالے سے معروف سماجی روبوٹکس کی ماہر اور اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی سے وابستہ نیومی فٹر نے ایک حالیہ انٹرویو میں اس ٹیکنالوجی کے پس منظر اور مستقبل پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہیومنائیڈ روبوٹس کی تیاری میں ہونے والی پیش رفت محض اتفاق نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی سائنسی تحقیق اور ہارڈ ویئر و سافٹ ویئر میں انقلابی تبدیلیاں کارفرما ہیں۔ آج کے روبوٹس انسانوں کے ساتھ زیادہ بہتر طریقے سے بات چیت اور تعاون کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ان روبوٹس کا بنیادی مقصد روزمرہ کے مشکل اور پیچیدہ کاموں میں انسانوں کی مدد کرنا ہے۔ صحت کے شعبے سے لے کر صنعتی اداروں تک، ہیومنائیڈ روبوٹس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان کی ظاہری شکل اور حرکات و سکنات کو اس طرح ڈیزائن کیا جا رہا ہے کہ عام لوگ ان کے ساتھ آسانی سے میل جول رکھ سکیں اور کسی قسم کی جھجھک محسوس نہ کریں۔
آنے والے وقت میں یہ ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا ایک لازمی حصہ بن سکتی ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی اخلاقی اور سماجی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں جن پر ماہرین غور کر رہے ہیں۔ نیومی فٹر کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگرچہ چیلنجز موجود ہیں، لیکن ہیومنائیڈ روبوٹس کا مستقبل انتہائی روشن ہے اور یہ انسانی تاریخ کا ایک نیا باب ثابت ہوں گے۔