LIVE
Loading Breaking News...

آئی ٹی سیکٹر اور اے آئی: مالیاتی سال 2030 تک کے اہم رجحانات

News Image
سی ایل ایس اے کی نئی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ابتدائی طور پر پیداواری فوائد منتقل ہونے سے آئی ٹی سیکٹر کی آمدنی کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم طویل المدت بنیادوں پر اے آئی کا حجم آمدنی کی اس کمی پر سبقت لے جائے گا اور نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
عالمی مالیاتی ادارے سی ایل ایس اے (CLSA) کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اگرچہ آئی ٹی سیکٹر کو اس وقت متعدد ملکی اور عالمی سطح پر معاشی و تکنیکی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم مصنوعی ذہانت (AI) آنے والے برسوں میں اس صنعت کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھولے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر اے آئی کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیداواری صلاحیت میں اضافے کے فوائد جب کلائنٹس کو منتقل کیے جائیں گے تو اس سے انڈسٹری کی آمدنی میں عارضی کمی یا دباؤ آ سکتا ہے۔ اس عمل کو آمدنی کا سکڑاؤ یا ڈیفلیشن کہا جا رہا ہے، جو ابتدائی مراحل میں آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال زیادہ طویل عرصے تک قائم نہیں رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2030 تک مصنوعی ذہانت پر مبنی پراجیکٹس اور سروسز کا حجم اتنا زیادہ ہو جائے گا کہ وہ اس ابتدائی آمدنی کی کمی کو نہ صرف پورا کر دے گا بلکہ اس پر سبقت بھی حاصل کر لے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کے استعمال سے کام کے حجم میں جو نمایاں اضافہ ہوگا، وہ بالآخر آئی ٹی کمپنیوں کے مالیاتی گراف کو اوپر لے جانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلیاں لا رہی ہیں تاکہ اے آئی سے جڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ کلائنٹس کی جانب سے اے آئی کے مؤثر استعمال کے مطالبات بڑھ رہے ہیں، جس کی وجہ سے روایتی آئی ٹی سروسز کے ماڈل بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ سی ایل ایس اے کی اس رپورٹ سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ اگرچہ منتقلی کا یہ دور مشکل ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اے آئی آئی ٹی سیکٹر کے لیے زبردست ترقی کا ضامن بنے گا۔