LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی میں سرمایہ کاری: پیک ایکس وی کے شیلندر سنگھ کا بڑا بیان

News Image
پیک ایکس وی کے شیلندر سنگھ نے کہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے اس دور میں روایتی وینچر کیپیٹلسٹ پیچھے رہ رہے ہیں۔ بڑے کاروباری اداروں کو چاہیے کہ وہ اس شعبے میں براہ راست سرمایہ کاری کریں۔
نئی دہلی میں منعقدہ اکنامک ٹائمز ورلڈ لیڈرز فورم کے دوران پیک ایکس وی کے ممتاز رہنما شیلندر سنگھ نے اہم خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے اس تیز رفتار دور میں روایتی وینچر کیپیٹلسٹ بتدریج غیر موثر یا پس منظر میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کاروباری دنیا پر زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر بڑا انٹرپرائز خود آگے بڑھ کر اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے تاکہ مستقبل کے معاشی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ شیلندر سنگھ نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کچھ اہم عالمی اور ملکی مثالیں بھی پیش کیں۔ انہوں نے ایچ سی ایل ٹیک (HCLTech) کی جانب سے ہندوستانی فاؤنڈیشنل ماڈل اسٹارٹ اپ 'سروم اے آئی' (Sarvam AI) میں کی جانے والی سرمایہ کاری کا خصوصی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایمیزون کی طرف سے دنیا کی معروف اے آئی کمپنی 'انتھروپک' (Anthropic) کو ملنے والی مالی اعانت کی بھی مثال دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑی کمپنیاں اب اے آئی کے میدان میں خود قدم رکھ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، شیلندر سنگھ کا یہ بیان اس بدلتے ہوئے معاشی منظرنامے کی عکاسی کرتا ہے جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی روایتی مالیاتی ماڈلز کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ اب وینچر کیپیٹل کے روایتی فنڈز کے بجائے براہ راست کاروباری ادارے اور کارپوریشنز اے آئی اسٹارٹ اپس کو فنڈ دے رہے ہیں تاکہ وہ مارکیٹ میں سب سے آگے رہ سکیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی تک ان کی براہ راست رسائی ممکن ہو سکے۔ اس تبدیلی سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کی صنعت میں کارپوریٹ سرمایہ کاری کا کردار انتہائی کلیدی بن جائے گا۔ تمام چھوٹے بڑے کاروباری اداروں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے روایتی طریقہ کار کو چھوڑ کر اے آئی پر مبنی سسٹمز کو اپنائیں اور اس میں بڑھ چڑھ کر فنڈنگ کریں تاکہ عالمی مسابقت میں پیچھے نہ رہ جائیں۔