LIVE
Loading Breaking News...

ایس جے شنکر کا دورہ روس اور پاک بھارت علاقائی صورتحال پر اثرات

News Image
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر دو روزہ دورے پر روس روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ ہند-روس بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، سائنسی اور تکنیکی تعاون پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اہم دو روزہ دورے پر روس پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ تجارت، سائنس، ٹیکنالوجی اور ثقافت پر مبنی 27ویں ہند-روس بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بین الاقوامی سطح پر امریکی صدراتی انتخابات کے نتائج اور ڈونلڈ ٹیرف کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر عالمی تجارت کے منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اس دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ دورے کے دوران روسی اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے علاوہ توانائی کے شعبے میں تعاون، مالیاتی لین دین کے متبادل نظام اور تکنیکی شراکت داری پر خصوصی غور کیا جائے گا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے نئے ٹیرف کے خدشات اور دباؤ کے سائے میں بھارت اور روس کے درمیان یہ رابطہ دونوں ملکوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ نئی دہلی اور ماسکو کے تعلقات نے گزشتہ چند برسوں میں مختلف عالمی چیلنجز کے باوجود ایک پائیدار تسلسل برقرار رکھا ہے، جس کا اعادہ اس دورے میں بھی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں جنوبی ایشیا کی سکیورٹی، عالمی سپلائی چین کے مسائل اور اقتصادی پابندیوں کے اثرات شامل ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس دورے سے دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کو مزید فروغ ملے گا اور مختلف شعبوں میں طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کی رفتار کو تیز کیا جا سکے گا۔ ایس جے شنکر کا یہ دورہ ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت اپنی خودمختار خارجہ پالیسی کے تحت تمام بڑے عالمی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو متوازن رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔