Business
ایس اینڈ پی 500 ڈیویڈنڈ ییلڈ کی ریکارڈ کمی اور ریٹائرڈ افراد کی مشکلات
امریکی شیئر مارکیٹ انڈیکس ایس اینڈ پی 500 میں ڈیویڈنڈ ییلڈ تاریخی کم ترین سطح ایک فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس صورتحال نے ریٹائرمنٹ کے بعد گزارے کے لیے ڈیویڈنڈ اسٹاکس پر انحصار کرنے والے افراد کو اپنی مالیاتی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
امریکی شیئر مارکیٹ کے معروف انڈیکس ایس اینڈ پی 500 میں ڈیویڈنڈ ییلڈ یا منافع کی تقسیم کی شرح گر کر ریکارڈ ایک فیصد کے قریب آ گئی ہے۔ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والے لاکھوں افراد طویل عرصے سے اپنے روزمرہ کے اخراجات اور مالی استحکام کے لیے مستحکم ڈیویڈنڈ دینے والے حصص پر انحصار کرتے آئے ہیں۔ تاریخی طور پر، یہ اسٹاکس باقاعدہ نقد آمدنی کا ایک بہترین ذریعہ سمجھے جاتے تھے جو مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے دوران بھی بزرگ شہریوں کو مالی سہار فراہم کرتے تھے۔
تاہم، حالیہ برسوں میں تکنیکی کمپنیوں کے غیر معمولی عروج اور مارکیٹ کی مجموعی قیمتوں میں اضافے کے باعث ڈیویڈنڈ کی یہ شرح سکڑ کر انتہائی کم سطح پر آ گئی ہے۔ بہت سی بڑی کمپنیاں اب نقد منافع تقسیم کرنے کے بجائے اپنے سرمائے کو کاروباری ترقی، نئی ٹیکنالوجی اور شیئر بائ بیک کے لیے استعمال کرنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ اس تبدیلی کی وجہ سے روایتی سرمایہ کاروں خصوصاً ریٹائرڈ افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کے لیے اپنے ماہانہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ماہرین مالیات کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ افراد کو اب صرف روایتی ڈیویڈنڈ اسٹاکس پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے پورٹ فولیو میں تنوع لانا ہوگا۔ متبادل ذرائع جیسے کہ فکسڈ انکم سیکیورٹیز، بانڈز اور دیگر منافع بخش اثاثوں کا انتخاب اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ مالیاتی مشیروں کی جانب سے یہ بھی زور دیا جا رہا ہے کہ خطرات کو کم کرنے کے لیے پیشہ ورانہ رہنمائی حاصل کی جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کم ہوتے ہوئے منافع کے اس دور میں ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی کو مالی طور پر محفوظ بنایا جا سکے。