LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں ہندو تہوار کی توہین، سوئس سیاح کو ایک سال قید

News Image
انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ہندوؤں کے مقدس تہوار نیپی کی توہین پر مبنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے سوئس سیاح کو عدالت نے ایک سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ ملزم نے سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز مواد شیئر کیا تھا جس پر مقامی حکام نے فوری کارروائی کی۔
انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی جزیرے بالی میں ہندوؤں کے مقدس تہوار 'نیپی' (Nyepi) کی توہین کرنے والے ایک چھبیس سالہ سوئس سیاح کو عدالت نے ایک سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ اس واقعے نے مقامی آبادی اور ہندو برادری میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی تھی، جس کے بعد حکام نے فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ملزم کو دندانپاسار ہائی کورٹ میں پیش کیا جہاں مقدمے کی سماعت مکمل ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ سوئس شہری بالی میں چھٹیاں گزارنے آیا تھا اور اس نے جزیرے کے انتہائی مقدس تہوار 'یومِ خاموشی' یعنی نیپی کے دوران سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز ویڈیوز وائرل کی تھیں۔ ان ویڈیوز میں مقامی مذہبی روایات اور عقائد کا مذاق اڑایا گیا تھا جو انڈونیشیا کے قوانین اور بالی کی ثقافتی اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے کلپس کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کو حراست میں لیا اور تفتیش کا آغاز کیا۔ دندانپاسار کی عدالت میں سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کیے، جن میں اس کی جانب سے اپ لوڈ کردہ ویڈیو کلپس بھی شامل تھے۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو مذہبی جذبات مجروح کرنے اور قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا اور اسے ایک سال قید کی سزا سنائی۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بالی میں تمام سیاحوں کو مقامی ثقافت اور مذہبی روایات کا احترام کرنا لازمی ہے اور اس قسم کی قانون شکنی پر کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ اس فیصلے کو مقامی سطح پر سراہا گیا ہے اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت اقدامات سے آئندہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔ سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ غیر ملکی سیاحوں کو انڈونیشیا کے قوانین بالخصوص مذہبی تہواروں کے تقدس کا مکمل خیال رکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے قانونی یا سماجی تنازع سے بچا جا سکے۔