World
افغانستان میں طالبان دور حکومت کے پانچ سال اور ہجرت کا بحران
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کو پانچ سال مکمل ہونے کے باوجود ملک سے شہریوں کی ہجرت اور معاشی بحران میں کمی نہیں آئی ہے۔ خواتین پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ملک کو سالانہ کروڑوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کی واپسی کو پانچ سال بیت چکے ہیں، لیکن اس طویل عرصے کے دوران بھی ملک سے شہریوں کی ہجرت کا سلسلہ تھم نہیں سکا۔ بین الاقوامی سطح پر اب بھی موجودہ افغان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے سیاسی اور سفارتی تنہائی برقرار ہے۔ مبصرین کے مطابق، بنیادی حقوق اور معاشی مواقع کی کمی کے باعث لاکھوں افغان باشندے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
دوسری جانب، تمام تر پابندیوں اور مشکلات کے باوجود افغان خواتین نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں خواتین نے اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹے پیمانے پر کاروبار شروع کیے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندانوں کی کفالت کر سکیں۔ بعض خواتین کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں خواتین کو روزگار فراہم کرنا اور انہیں خود مختار بنانا ہی ان کی اصل جدوجہد اور مزاحمت ہے۔
تاہم، حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف خواتین کی تعلیم اور کام پر پابندیوں کی وجہ سے افغانستان کو سالانہ چوراسی ملین ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ جب تک نصف آبادی کو معاشی اور تعلیمی سرگرمیوں سے دور رکھا جائے گا، ملک کے معاشی بحران کا خاتمہ ناممکن رہے گا اور ہجرت کا یہ لامتناہی سلسلہ جاری رہے گا۔