Business
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی اور ایس پی آئی میں اضافہ
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے غریب عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مختلف شہروں میں اشیائے ضروریہ اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر سینیٹرز اور ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد سمیت ملک بھر میں ہفتہ وار مہنگائی میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس نے پہلے سے ہی مہنگائی کے دباؤ کا شکار غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق حساس قیمتوں کا اشاریہ یعنی ایس پی آئی بلند سطح پر برقرار ہے، جس سے روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف شہروں بالخصوص اسلام آباد میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں بیس کلو آٹے کا تھیلا ریکارڈ بلند سطح پر فروخت ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مہنگائی کی اس لہر نے ملک کے سترہ بڑے شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں سبزیوں، دالوں، گھی اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اور اضافے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کی وجہ سے کم آمدنی والے خاندان اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہوتے جا رہے ہیں اور ان کی قوت خرید انتہائی کم ہو چکی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے بازار میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے دعوے کے باوجود زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔
اس صورتحال پر سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ سینیٹر عبد القادر سمیت مختلف شخصیات نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تدارک کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے موثر پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو اس کے معاشی اور معاشرتی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ عوام نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کے لیے فوری ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ غریب عوام کو دو وقت کی روٹی باآسانی میسر آ سکے۔