LIVE
Loading Breaking News...

عالمی تیل مارکیٹ: آبِ ہرمز کا بحران اور توانائی کے طویل مدتی خطرات

News Image
آبِ ہرمز کے بحران اور امریکہ اور ایران کشیدگی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ توانائی کا بحران جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک اثر انداز رہ سکتا ہے۔
عالمی منڈی میں آبِ ہرمز کے بحران کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عارضی جنگی صورتحال نے دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کے نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کی تہہ میں تیل کا ایک ایسا گہرا خطرہ چھپا ہے جو موجودہ کشیدگی یا جنگ کے خاتمے کے بعد بھی کافی عرصے تک عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کرتا رہے گا۔ حالیہ کاروباری سیشنز کے دوران ڈبلیو ٹی آئی خام تیل (WTI Crude) کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ ستاسی ڈالر فی بیرل کے قریب بند ہوا جبکہ برینٹ آئل کی قیمتیں بھی پچانوے ڈالر فی بیرل کے آس پاس ٹریڈ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ قدرتی گیس اور تیل کی پیشگوئی کرنے والے اداروں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آبِ ہرمز کے راستے ہونے والی ترسیل میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں رسد کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی کا خدشہ ہے۔ تجارتی ماہرین اور مالیاتی اداروں جیسے کہ آئی این جی (ING) کا ماننا ہے کہ روس اور مشرق وسطیٰ پر عائد سخت پابندیوں کے خطرات بھی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو اوپر کھینچ رہے ہیں۔ اگرچہ امریکہ میں تیل کے ذخائر میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اتنی پیچیدہ ہو چکی ہے کہ محض مقامی ذخائر عالمی طلب کو طویل مدت تک پورا نہیں کر سکتے۔ سرمایہ کاروں اور توانائی کے شعبے کے ماہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ آبِ ہرمز دنیا بھر کے تیل کی نقل و حمل کے لیے ایک انتہائی اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اگر اس راستے پر پابندیاں یا حملے جاری رہے تو آنے والے مہینوں میں دنیا کو مہنگائی کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس سے بین الاقوامی معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے۔