LIVE
Loading Breaking News...

اورڈیننس سروے کا اے آئی میں سفر، نک بولٹن کا انٹرویو

News Image
برطانیہ کے دو سو پچیس سالہ تاریخی ادارے اورڈیننس سروے کو جدید مصنوعی ذہانت کے دور سے ہم آہنگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ادارے کے سی ای او نک بولٹن کا کہنا ہے کہ جغرافیائی ڈیٹا اور لوکیشن ٹیکنالوجی کو مصنوعی ذہانت سے جوڑنا مستقبل کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
برطانیہ کا دو سو پچیس سال پرانا تاریخی ادارہ اورڈیننس سروے جو کبھی عسکری مقاصد کے لیے قائم کیا گیا تھا، اب جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس ادارے کے روایتی نقشے اور کاغذی شیٹس برطانوی ثقافت اور تاریخ کا ایک اہم حصہ رہے ہیں، تاہم بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ اس ادارے کو بھی ڈیجیٹل اور اے آئی کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ادارے کے موجودہ چیف ایگزیکٹو آفیسر نک بولٹن نے اس تبدیلی کے عمل پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ نک بولٹن کا ماننا ہے کہ لوکیشن یا جغرافیائی محل وقوع وہ بنیادی دھرا ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کے ڈیٹا کو آپس میں جوڑا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں ڈیٹا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ہے، لیکن جب اس ڈیٹا کو کسی مخصوص مقام یا پوزیشن کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تو اس کی افادیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ اورڈیننس سروے اس وقت اسی نظریے کے تحت کام کر رہا ہے تاکہ روایتی نقشہ سازی سے نکل کر ایک جدید ڈیجیٹل اکو سسٹم تشکیل دیا جا سکے جس میں مصنوعی ذہانت کا بھرپور استعمال ہو۔ اس طویل المدتی اور مشکل عمل کے دوران ادارے کو متعدد تکنیکی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ دو صدیوں سے زائد پرانے ڈیٹا کو ڈیجیٹل فارمیٹ میں منتقل کرنا اور پھر اس پر مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کا اطلاق کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ تاہم، نک بولٹن اور ان کی ٹیم پرامید ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نہ صرف اس تاریخی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اسے کاروباری اور سرکاری سطح پر انتہائی مفید اثاثے میں بھی بدلا جا سکتا ہے۔ مستقبل کے لائحہ عمل کے تحت اورڈیننس سروے ایسے جدید ٹولز اور پلیٹ فارمز تیار کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جو خودکار انداز میں نقشوں کی تجدید کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت کی شمولیت سے ادارے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی اور صارفین کو انتہائی درست اور بروقت جغرافیائی معلومات فراہم کی جا سکیں گی۔ نک بولٹن کی قیادت میں یہ ادارہ اس بات کا ثبوت پیش کر رہا ہے کہ کتنی ہی پرانی تنظیم کیوں نہ ہو، اگر وقت کے ساتھ تبدیلیاں قبول کی جائیں تو وہ جدید ترین ٹیکنالوجی کے دور میں بھی اپنا مقام برقرار رکھ سکتی ہے۔