LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین میں جنگ کے دوران انتخابات: زیلنسکی کا اہم انتباہ

News Image
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے موجودہ حالات میں ملک کے اندر انتخابات کا انعقاد ریاست کو تباہ اور عوام کو تقسیم کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس خیالی تجویز کو ایک طوفان قرار دیا جو ملکی یکجہتی کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ملک میں جنگ کے موجودہ نازک حالات کے دوران انتخابات کا انعقاد ریاست کو مکمل طور پر تباہ اور منقسم کر سکتا ہے۔ صدر زیلنسکی کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی حلقوں اور حکومتی سطح پر جنگ زدہ ملک میں جمہوری عمل کی بحالی اور انتخابات کے امکانات پر بحث کی جا رہی تھی۔ ذرائع کے مطابق یوکرینی صدر نے اس قسم کی تجاویز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ملک کے لیے ایک تباہ کن سونامی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت یوکرین کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہے اور پوری توجہ ملک کے دفاع پر ہونی چاہیے، ایسے میں اندرونی سیاسی رقابتیں اور انتخابی عمل قوم کو مزید کمزور کر سکتا ہے اور عوام میں شدید اختلافات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ صدر زیلنسکی کا یہ موقف اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ کے دوران انتخابی مہم چلانا، لاکھوں مہجرین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنا اور سکیورٹی خدزات کے سائے میں پولنگ کرانا انتہائی ناممکن اور خطرناک عمل ہے۔ یوکرینی حکومت کی پہلی ترجیح ملک کی خودمختاری کا تحفظ اور روسی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ جب تک ملک کے تمام علاقوں میں امن و امان کی بحالی ممکن نہیں ہوتی اور تمام شہریوں کو یکساں طور پر جمہوری حق حاصل نہیں ہوتا، تب تک انتخابات کا انعقاد قومی مفاد کے خلاف ہے۔ صدر زیلنسکی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے ملک کی تمام اکائیوں کو یکجا رہنا ہوگا تاکہ بیرونی دشمن کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکے۔