LIVE
Loading Breaking News...

ICE Nationwide Operation SIM Farms Dismantled Urdu News

News Image
امریکی ادارے آئی سی ای نے ملک بھر میں ایک بڑے آپریشن کے دوران بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہوں کے چلائے جانے والے سم فارمز کا مکروہ نیٹ ورک ختم کر دیا ہے۔ یہ کارروائی جون اور جولائی کے دوران عمل میں لائی گئی جس کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے میں بڑی کامیابی ملی ہے۔
امریکہ کے محکمہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز کے شعبے نے ملک بھر میں ایک انتہائی اہم اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بین الاقوامی جرائم پیشہ تنظیموں کے زیر استعمال 'سم فارمز' کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ یہ کارروائی جون اور جولائی کے درمیانی عرصے میں عمل میں لائی گئی جس کا بنیادی مقصد ملک میں ڈیجیٹل فراڈ، سائبر کرائم اور غیر قانونی مواصلاتی نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا تھا۔ حکام کے مطابق اس ملک گیر آپریشن نے مجرموں کے اس نیٹ ورک کو کاری ضرب لگائی ہے جو سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہے تھے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق سم فارمز (سبسکرائبر آئیڈنٹیٹی ماڈیول فارمز) ایسے مراکز ہوتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں سم کارڈز کو ایک ساتھ ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر کے ذریعے آپریٹ کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہ ان فارمز کا استعمال دھوکہ دہی، شناخت کی چوری، مالیاتی فراڈ اور فریب پر مبنی پیغامات بھیجنے کے لیے کرتے ہیں۔ ان فارمز کے ذریعے مجرم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت سے بچنے کے لیے اپنی اصلی شناخت اور مقام کو چھپانے میں کامیاب ہو جاتے تھے، جس سے عام شہریوں اور مالیاتی اداروں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ آئی سی ای کے حکام نے بتایا کہ اس کامیاب آپریشن کے دوران بڑی تعداد میں ممنوعہ آلات، سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل مواد قبضے میں لے لیا گیا ہے جو مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ اس کارروائی کو سائبر سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تاریخ میں ایک نمایاں سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف منظم جرائم کی کمر ٹوٹی ہے بلکہ ملک کی ڈیجیٹل سرحدوں کو بھی مزید محفوظ بنایا گیا ہے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ اہم ملزمان کی شناخت کا عمل جاری ہے اور اس بات کی بھی گہرائی سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ اس میں کون کون سے بین الاقوامی عناصر ملوث تھے۔ سیکیورٹی اداروں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوام کو ڈیجیٹل فراڈ اور منظم جرائم سے بچانے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں مستقبل میں بھی پوری سختی کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی تاکہ کسی بھی مجرم کو قانون کی گرفت سے فرار کا موقع نہ مل سکے۔