LIVE
Loading Breaking News...

چینی روبوٹ لائٹننگ کا 100 میٹر دوڑ میں اوسین بولٹ کا ریکارڈ ختم

News Image
چین کے ایک جدید ہیومنائڈ روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ محض 9.32 سیکنڈ میں مکمل کر کے انسانی عالمی ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 'لائٹننگ' نامی اس روبوٹ کی اس کارکردگی کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بہت بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
بیجنگ: سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا تاریخی باب رقم کرتے ہوئے چین کے ایک جدید ہیومنائڈ روبوٹ نے معروف ایتھلیٹ اوسین بولٹ کا 100 میٹر دوڑ کا عالمی ریکارڈ توڑ ڈالا ہے۔ چینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس حیرت انگیز روبوٹ نے اپنی پریکٹس ریس کے دوران 100 میٹر کا فاصلہ محض 9.32 سیکنڈز میں طے کیا۔ اس شاندار کارکردگی کے بعد روبوٹ نے عالمی سطح پر ایکنسی کھڑا کر دیا ہے کیونکہ موجودہ انسانوں میں 100 میٹر کا عالمی ریکارڈ اوسین بولٹ کے پاس ہے جنہوں نے یہ فاصلہ 9.58 سیکنڈ میں طے کیا تھا۔ 'لائٹننگ' نامی اس روبوٹ کو جدید ترین مصنوعی ذہانت اور میکینیکل انجینیئرنگ کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روبوٹ کی یہ کامیابی روبوٹکس کی تاریخ میں ایک انقلابی قدم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب مشینوں کی تیز رفتاری اور توازن انسانی صلاحیتوں کو بھی پیچھے چھوڑنے لگی ہے۔ اس تجربے کے دوران روبوٹ کے توازن، موٹرز کی کارکردگی اور تیز رفتار دوڑنے کی صلاحیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، جس کے نتائج توقعات سے کہیں زیادہ بہتر نکلے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے ہیومنائڈ روبوٹس کی تیاری سے مستقبل میں نہ صرف کھیلوں کے میدان میں بلکہ ریسکیو آپریشنز اور صنعتی شعبوں میں بھی انقلاب برپا ہو جائے گا۔ چین میں روبوٹکس کی ترقی تیزی سے جاری ہے اور حالیہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ چینی ادارے اس شعبے میں دنیا بھر میں سب سے آگے نکلتے جا رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس روبوٹ کی مزید نمائش اور کارکردگی کے ٹیسٹ متوقع ہیں جن پر عالمی سطح پر سائنسدانوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔