LIVE
Loading Breaking News...

چین کا ونڈوز چھوڑ کر لینکس اپنانے کا بڑا فیصلہ

News Image
چین نے غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنے سرکاری اداروں میں ونڈوز کی بجائے لینکس کا استعمال قبل از وقت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی مصنوعات سے دوری اختیار کرنا اور ملکی سافٹ ویئر انڈسٹری کو فروغ دینا ہے۔
بیجنگ: عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی جنگ میں ایک اور اہم موڑ آ گیا ہے جہاں چین نے اپنے سرکاری اداروں میں امریکی آپریٹنگ سسٹم مائیکروسافٹ ونڈوز کو طے شدہ وقت سے پہلے ہی ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چینی حکام اب ونڈوز کی جگہ مکمل طور پر اوپن سورس لینکس پر مبنی سسٹمز کی طرف منتقلی کا عمل تیز کر رہے ہیں۔ اس قدم کا بنیادی مقصد ملک کے اہم ترین سرکاری انفراسٹرکچر میں غیر ملکی ٹیکنالوجی بالخصوص امریکی مصنوعات اور خدمات پر انحصار کو کم سے کم کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی طویل المدتی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کے ذریعے چین اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اس سے قبل یورپی ممالک میں بھی اسی قسم کے اقدامات دیکھے گئے ہیں جہاں سرکاری اور انتظامی امور کے لیے اوپن سورس سافٹ وئیرز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ چینی حکومت کی جانب سے یہ پالیسی نہ صرف ملکی آئی ٹی سیکٹر کو استحکام فراہم کرے گی بلکہ مقامی سطح پر تیار کردہ لینکس ڈسٹریبیوشنز کو بھی فروغ ملے گا۔ اس تبدیلی سے مائیکروسافٹ کو چینی مارکیٹ میں ایک بڑا دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے، کیونکہ سرکاری شعبہ کسی بھی بڑی سافٹ ویئر کمپنی کے لیے ایک بہت بڑا کسٹمر ہوتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس منتقلی کے اثرات عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ اور امریکہ اور چین کے درمیان تکنیکی تعلقات پر بھی واضح طور پر دکھائی دیں گے۔