Technology
مصنوعی ذہانت اور جاب ڈسربشن، آسٹریلیا میں تاریخی عدلیہ فیصلہ
آسٹریلیا کے ایک ٹریبیونل نے مزدور کے معاوضے کے مقدمے میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے مستقبل میں نوکری کے مواقع محدود ہونے کے خطرے کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے۔ اس تاریخی فیصلے کو مستقبل میں لیبر مارکیٹ اور ٹیکنالوجی کے اثرات کے حوالے سے ایک اہم عدلیہ سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
سڈنی سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز کے ایک ٹریبیونل نے آسٹریلیا کی قانونی تاریخ میں ایک ایسا منفرد اور تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جس نے دنیا بھر کے ماہرینِ قانون اور ٹیکنالوجی کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس مقدمے میں ایک زخمی کارکن کے لیے نو لاکھ پچاس ہزار ڈالر کے معاوضے کا تعین کرتے وقت پہلی بار باضابطہ طور پر اس امر کو مدنظر رکھا گیا کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) مستقبل قریب میں اس مزدور کے لیے روزگار کے مواقع کس حد تک محدود یا متاثر کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ لیبر مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں ایک نیا قانونی باب کھول رہا ہے۔
مقدمے کی سماعت کے دوران ٹریبیونل کے روبرو یہ اہم نکتہ اٹھایا گیا کہ جدید دور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور آٹومیشن تیزی سے روایتی پیشوں اور ملازمتوں کی جگہ لے رہے ہیں۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ ٹیکنالوجی کے اس تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ سے متاثرہ مزدور کی مستقبل میں کسی دوسری ملازمت کو حاصل کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوگی۔ اس خدشے کو مدنظر رکھتے ہوئے معاوضے کی رقم کا تعین کرتے وقت مصنوعی ذہانت کے جاب ڈسربشن فیکٹر کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ کارکن کو مستقبل کے مالیاتی چیلنجز سے محفوظ رکھا جا سکے جو ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ آسٹریلیا سمیت دنیا بھر کے دیگر ممالک کے لیے ایک بڑی نظیر بن سکتا ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کارخانوں، دفاتر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں انسانی لیبر کا متبادل بن رہی ہے، ویسے ویسے ورکرز کمپنسیشن اور روزگار کے قوانین میں بھی بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اس فیصلے کے بعد اب قانونی حلقوں میں اس بات پر سنجیدہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ کیا مستقبل کے تمام مقدمات میں بھی ٹیکنالوجی کے عمل دخل اور نوکریوں کے خاتمے کے خطرات کو اسی طرح قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا یا نہیں۔