LIVE
Loading Breaking News...

بھارت کا متبادل سرمایہ کاری بازار 2034 تک دو ٹریلین ڈالر کا ہونے کی توقع

News Image
ایک نئی رپورٹ کے مطابق بھارت میں متبادل اثاثہ جات کی مارکیٹ میں پانچ گنا تک اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ نجی ایکوئٹی اور خاندانوں کے دفاتر کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اس سرمائے کی آمد کا اہم سبب ہے۔
نئی دہلی (نیکسو را نیوز اردو) ایک تازہ ترین مالیاتی رپورٹ کے مطابق بھارت میں متبادل سرمایہ کاری کی مارکیٹ اگلے چند برسوں کے دوران حیرت انگیز ترقی کرتے ہوئے چار سو ارب ڈالر سے بڑھ کر دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سال 2034 تک اس شعبے میں پانچ گنا تک اضافے کے روشن امکانات موجود ہیں، جو ملک کی معاشی اور مالیاتی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی شرکت اور زیادہ منافع بخش اثاثوں کی طلب میں اضافہ ہے۔ ملک کے اندر روایتی سرمایہ کاری کے متبادل کے طور پر نئے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں، جن میں نجی ایکوئٹی، وینچر کیپیٹل اور دیگر متبادل فنڈز سرفہرست ہیں۔ اس کے علاوہ بھارت کے فیملی دفاتر بھی اب نجی ایکوئٹی اور دیگر غیر روایتی شعبوں میں بڑھ چڑھ کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ سرمائے کی یہ بڑی آمد نہ صرف مالیاتی اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ ملک میں صنعتی ترقی اور کاروباری ماحول کو بھی تقویت دے گی۔ اس دوران ریگولیٹری فریم ورک اور حکومتی پالیسیوں کا کردار بھی اس شعبے کی ترویج میں انتہائی اہمیت کا حامل رہے گا۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ترقی کی یہی رفتار برقرار رہی تو بھارت دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی اور پرکشش منزل بن کر ابھرے گا۔