Business
بھارت کی ٹیلی کام آلات کی برآمدات اور پچاس ارب ڈالر کا ہدف
بھارت کی موجودہ ٹیلی کام آلات کی برآمدات سالانہ ایک ارب ڈالر سے کم ہیں جبکہ درآمدات اس سے چار گنا زیادہ ہیں۔ نیتی آیوگ کی نئی رپورٹ کے مطابق مناسب حکمت عملی اپنا کر اس تجارتی خسارے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔
بھارت میں ٹیلی کام کے شعبے کو لے کر ایک بڑی معاشی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ملک کے پالیسی تھنک ٹینک 'نیتی آیوگ' کی ایک نئی تشخیص میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت ٹیلی کام آلات کی برآمدات کے ذریعے پچاس ارب ڈالر کا بڑا ہدف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس وقت ملک میں ٹیلی کام آلات کی برآمدات کا حجم صرف ساٹھ کروڑ سے ایک ارب ڈالر سالانہ کے درمیان ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں درآمدات کا حجم اس سے چار سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے ماہرین کی جانب سے خصوصی توجہ کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر توجہ دیں تو اس تجارتی فرق کو ایک شاندار موقع میں بدلا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں عالمی منڈی میں ٹیلی کام آلات کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور سپلائی چین کے متبادل ذرائع تلاش کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں بھارت کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اس خلاء کو پر کرے اور خود کو عالمی منڈی میں ایک بڑے برآمد کنندہ کے طور پر پیش کرے۔
اس مقصد کے لیے پیداواری صلاحیت کو بڑھانا، مقامی سطح پر سیمی کنڈکٹرز اور دیگر اہم اجزاء کی تیاری کو فروغ دینا اور برآمدی مراعات کا نفاذ نہایت ضروری ہے۔ نیتی آیوگ کی اس رپورٹ نے صنعت کاروں اور پالیسی سازوں کی توجہ اس اہم شعبے کی طرف مبذول کرائی ہے تاکہ ملک کو درآمدات پر انحصار کم کرنے اور برآمدات کو وسعت دینے میں مدد مل سکے۔ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو آنے والے برسوں میں بھارت ٹیلی کام ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک کلیدی کھلاڑی بن کر ابھر سکتا ہے۔