AI
AI Fraud & Deepfake Scams: مصنوعی ذہانت کے ذریعے فراڈ میں اضافہ
مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے باعث دنیا بھر میں آن لائن فراڈ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہو چکا ہے۔ مجرم اب حکام اور معروف شخصیات کی آواز اور شکل اختیار کر کے معصوم شہریوں کو کروڑوں ڈالر کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔
نئی دہلی اور واشنگٹن سمیت دنیا بھر کے سائبر سکیورٹی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی مدد سے کیے جانے والے فراڈ اب سنگین شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مجرموں کی جانب سے ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ اسکیمز اب عام لوگوں کے لیے انتہائی پیچیدہ اور شناخت کرنے میں مشکل بن چکی ہیں۔ لوگ اس جدید فریب کا باآسانی شکار بن رہے ہیں کیونکہ یہ ٹیکنالوجی اصلی اور نقل میں تمیز کرنا ناممکن بنا دیتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مجرم اب سرکاری حکام، کارپوریٹ رہنماؤں اور معروف عوامی شخصیات کی نقل کرنے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ فراڈیے باضابطہ طور پر آوازوں کی ہو بہو نقل اور ویڈیوز تیار کرتے ہیں تاکہ متاثرین کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ وہ کسی بااختیار یا معتبر شخص سے بات کر رہے ہیں۔ اس قسم کی جعلسازی کے نتیجے میں متاثرین کو دنیا بھر میں لاکھوں اور کروڑوں ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جب کہ ان جرائم کی تفتیش کرنا بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
ماہرینِ ٹیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ڈیپ فیک فراڈ کا یہ نیا رجحان ڈیجیٹل دنیا کے لیے ایک گھنٹی کی طرح ہے۔ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز زیادہ عام اور طاقتور ہو رہے ہیں، عام شہریوں کے لیے ان خطرات سے بچنا مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی ناگہانی مالی مطالبے یا سرکاری ہدایت پر عمل کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے سے براہ راست تصدیق لازمی کی جائے تاکہ اس قسم کے گھناؤنے فراڈ سے محفوظ رہا جا سکے۔