World
بنگلہ دیشی جامعات اور اسلامی اقدار کا بحران - نیکسورا نیوز
بنگلہ دیش کی پبلک یونیورسٹیوں کو ایک مشکل ورثے کا سامنا ہے جہاں ماضی میں حکمران جماعت کے طلبہ ونگز نے ہاسٹلز کو نگرانی اور خوف کی جگہ بنا دیا تھا۔ سال 2009 سے 2024 کے دوران اس نظام نے کیمپس کی زندگی اور طلبہ کے مذہبی شعائر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
بنگلہ دیش کی پبلک یونیورسٹیوں کو اس وقت ایک انتہائی پیچیدہ اور مشکل ورثے کا سامنا ہے، جس نے تعلیمی اداروں کے اندر طلبہ کی شخصی آزادی اور مذہبی میلانات کو بری طرح متاثر کیا۔ گزشتہ کئی برسوں کے دوران، یونیورسٹیوں کے رہائشی ہاسٹلز کو سیاسی دباؤ، نگرانی اور خوف کی فضا قائم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جس نے بالخصوص مسلم طلبہ کی مذہبی شناخت اور اقدار کو ایک مشکوک دائرے میں لا کھڑا کیا۔ ماہرین کے مطابق، تعلیمی اداروں کا یہ ماحول طلبہ کی ذہنی نشوونما اور فکری آزادی کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا۔
رپورٹس کے مطابق سال 2009 سے 2024 کے طویل عرصے کے دوران، طاقتور سیاسی دھڑوں کے طلبا ونگز نے یونیورسٹی کے ہاسٹلز پر ایک منظم کنٹرول برقرار رکھا۔ اس نظام کے تحت جامعات میں اسلامی شعائر پر عمل پیرا ہونے والے طلبہ کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، اور ان کی ہر سرگرمی کو شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اس صورتحال نے کیمپس کی زندگی کو تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے بجائے خوف اور جبر کی علامت بنا دیا، جہاں عام طلبہ کے لیے بغیر کسی خوف کے اپنی زندگی گزارنا تقریباً ناممکن ہو چکا تھا۔
اب جب کہ بنگلہ دیش میں سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو چکا ہے، پبلک یونیورسٹیوں کے لیے اس تاریک ماضی سے باہر نکلنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ سول سوسائٹی اور تعلیمی ماہرین کا تقاضا ہے کہ جامعات کی انتظامیہ کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو طلبہ کے حقوق کا تحفظ کریں اور کیمپسز کو تمام سیاسی مداخلتوں سے پاک کریں۔ صرف ایک آزاد اور شفاف تعلیمی ماحول کی بحالی کے ذریعے ہی طلبہ کے دلوں سے خوف کا یہ احساس ختم کیا جا سکتا ہے اور جامعات کو ان کا اصل مقصد لوٹایا جا سکتا ہے۔