LIVE
Loading Breaking News...

اینتھروپک کا بڑا قدم، 100 ارب ڈالر فنڈز اور دو ٹریلین ڈالر مالیت کی توقع

News Image
مصنوعی ذہانت کے شعبے کی نامور کمپنی اینتھروپک رواں سال اکتوبر تک شیئر مارکیٹ میں لسٹنگ کے ذریعے تقریبا 100 ارب ڈالر تک کے فنڈز جمع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس ممکنہ اقدام سے کمپنی کی مجموعی مالیت کم از کم دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے جو عالمی سطح پر ایک نیا ریکارڈ ہوگا۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ترقی کے لیے کام کرنے والی عالمی سطح پر معروف کمپنی اینتھروپک کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ رواں سال کے آخر تک شیئر مارکیٹ میں لسٹنگ کے ذریعے تقریباً 100 ارب ڈالر تک کے بھاری فنڈز جمع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ مالیاتی حلقوں کے مطابق یہ قدم عالمی کاروباری تاریخ میں ایک بڑا سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے ماضی کے کئی بڑے ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ عمل اکتوبر تک عمل میں لایا جا سکتا ہے جو سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق اینتھروپک کے سینئر ایگزیکٹوز اس ممکنہ لسٹنگ کے لیے مختلف مالیاتی آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کمپنی کے حامیوں اور سرمایہ کاروں کی طرف سے جو ماڈلنگ کی گئی ہے اس کے تحت اس ٹیکنالوجی فرم کی مجموعی مالیت کم از کم دو ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ تخمینہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد کس قدر تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ شعبہ روایتی صنعتوں کو پیچھے چھوڑتا جا رہا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو یہ ماضی کے کئی بڑے ریکارڈ توڑ دے گا، جن میں اسپیس ایکس (SpaceX) کے ریکارڈز بھی شامل ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل یورپ کی سب سے بڑی لسٹنگ بھی اس ممکنہ حجم کے مقابلے میں کافی کم رہی ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کا مالیاتی اثر و رسوخ کس حد تک پھیل چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس ممکنہ فنڈنگ اور لسٹنگ کے طویل المدتی اثرات نہ صرف اینتھروپک کی کارکردگی پر پڑیں گے بلکہ پوری مصنوعی ذہانت کی مارکیٹ کو ایک نئی سمت ملے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے مزید سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے کاموں میں مزید تیزی آئے گی۔ تاہم، حتمی فیصلوں کا انحصار آنے والے مہینوں میں مارکیٹ کے حالات اور ریگولیٹری منظوریوں پر ہوگا۔