LIVE
Loading Breaking News...

ماہر معالج کی صحت مند رہنے اور طویل عمری کی عادات

News Image
نیویارک کے ایک معالج ڈاکٹر رونالڈ پرائماس دیر رات تک کام کرنے کے باوجود اپنی صحت اور طویل عمری کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہیں۔ وہ متوازن طرز زندگی اور باقاعدہ طبی جانچ کے ذریعے اپنی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔
جب زیادہ تر لوگ اپنے دن کا کام ختم کرکے گھروں کا رخ کرتے ہیں، تو ڈاکٹر رونالڈ پرائماس اکثر اپنے مریضوں سے ملنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ نیویارک کے اس معروف معالج کے کلینک کے اوقات عام طور پر شام چھ بجے ختم ہوتے ہیں، لیکن ان کا پیشہ ورانہ دن اور ذمہ داریاں اس کے بعد بھی جاری رہتی ہیں۔ شدید مصروفیت اور رات ایک بجے سونے کی معمول کی روٹین کے باوجود، ڈاکٹر پرائماس اپنی صحت کو بہتر حالت میں رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ڈاکٹر پرائماس کا کہنا ہے کہ وہ طویل عمری اور اچھی صحت کے تمام ممکنہ اصولوں پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنی روزمرہ کی مصروفات میں جسمانی ورزش، متوازن غذا اور ذہنی سکون کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ جدید دور میں کام کا دباؤ بہت زیادہ ہے، لیکن اگر انسان اپنے جسم کی ضروریات کو سمجھے اور وقت پر مناسب اقدامات کرے تو وہ بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔ اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ باقاعدگی سے طبی معائنہ کروانا اور اپنے جسمانی اعضاء کی کارکردگی پر نظر رکھنا ان کی روٹین کا حصہ ہے۔ وہ اپنے معمولات میں ایسی سرگرمیوں کو شامل کرتے ہیں جو ان کے دل اور دماغ کو ت وتازہ رکھیں۔ اگرچہ ان کا سونے کا وقت رات ایک بجے کا ہے، لیکن وہ اپنی نیند کے گھنٹوں اور اس کے معیار کو بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں تاکہ جسم کو درکار آرام مل سکے۔ ماہرین صحت کے مطابق ڈاکٹر پرائماس کا یہ طرز زندگی ان افراد کے لیے ایک مثال ہے جو طویل اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ نقطہ نظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مصروف ترین شیڈول کے باوجود صحت کے اصولوں سے سمجھوتہ کیے بغیر ایک کامیاب اور تندرست زندگی گزاری جا سکتی ہے، بشرطیکہ انسان نظم و ضبط کا پابند ہو۔