LIVE
Loading Breaking News...

منجمد فائبر ٹیکنالوجی: روشنی اور آواز کا انوکھا تعامل

News Image
محققین نے آپٹیکل فائبر کے مائع کور کو منجمد کر کے روشنی اور آواز کے درمیان تعامل کو عام فائبرز کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ طاقتور بنا دیا ہے۔ اس نئی دریافت سے آپٹو اکوسٹک میموری کی تخلیق کی راہ ہموار ہوئی ہے جو مستقبل کی ٹیکنالوجی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
سائنسی دنیا میں ایک انتہائی اہم پیش رفت کے تحت محققین نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ایک خاص منجمد فائبر کے ذریعے روشنی اور آواز کے درمیان تعامل کو عام حالات کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ یہ تجربہ ایک آپٹیکل فائبر کے مائع کور کو شدید سرد درجہ حرارت پر منجمد کرکے کیا گیا، جس سے فائبر کے اندر ایک انتہائی انتہائی ماحول پیدا ہوا۔ اس عمل کے دوران روشنی کے فوٹونز اور صوتی لہروں کے درمیان باہمی عمل اتنی شدت اختیار کر گیا جتنا کہ روایتی فائبر آپٹیکل سسٹمز میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ تحقیق کاروں کے مطابق، اس حیرت انگیز اثر کو عملی طور پر استعمال کرتے ہوئے آپٹو اکوسٹک میموری (optoacoustic memory) کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس قسم کی یادداشت روشنی اور آواز کی لہروں کو محفوظ کرنے اور ان کے درمیان سگنل کی منتقلی کو انتہائی تیز رفتار اور موثر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل کے مواصلاتی نظام، ڈیٹا پروسیسنگ اور کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبوں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے کیونکہ اس سے سگنل کے ضائع ہونے کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ فائبر آپٹکس کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا، جس سے ایسی جدید آلات اور سسٹمز کی تیاری ممکن ہو گی جو بیک وقت روشنی اور صوتی لہروں کو انتہائی باریک بینی سے کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس ٹیکنالوجی کو تجارتی اور صنعتی پیمانے پر استعمال کے قابل بنایا جا سکے، جو کہ آنے والے وقتوں میں ڈیجیٹل دنیا کا رخ بدل سکتی ہے۔