World
سمندری خزانوں کی تلاش اور امیر سرمائے کا کردار
جدید سمندری ٹیکنالوجی اور خودکار گاڑیوں کی مدد سے اب سمندر برد ہونے والے جہازوں اور ان کے خزانوں کی تلاش کا عمل انتہائی دلچسپ ہو چکا ہے۔ امیر ترین پشت پناہ اور سرمایہ کار اس مہنگے ترین مشن میں بڑھ چڑھ کر مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
سمندر کی گہرائیوں میں چھپے ہوئے رازوں اور قدیم خزانوں کی تلاش کا صدیوں پرانا انسانی شوق ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ٹیکنالوجی میں ہونے والی حیرت انگیز ترقی اور جدید ترین آلات نے سمندر برد ہونے والے تاریخی جہازوں تک رسائی کو ممکن بنا دیا ہے۔ خودکار زیر آب گاڑیاں جو سمندر کے فرش کا تفصیلی نقشہ تیار کرتی ہیں اور ریموٹ سے چلنے والے آلات نے میرین ڈسکوری یا سمندری دریاؤں کے دور کو ایک بالکل نئے عہد میں داخل کر دیا ہے۔ اس تمام عمل کے دوران جو چیز سب سے زیادہ اہم ثابت ہو رہی ہے وہ گہری جیبوں والے مالیاتی پشت پناہ اور ارب پتی سرپرست ہیں جو اس پرتعیش اور مہنگے ترین شوق کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
ماضی میں سمندر کی تہہ سے کسی جہاز کے ملبے یا اس میں موجود قیمتی نوادرات کو نکالنا انتہائی خطرے سے بھرپور اور مالی طور پر تباہ کن کام سمجھا جاتا تھا۔ تاہم اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ جدید سائنسی طریقوں اور بہتر آلات کی دستیابی نے ان مہمات کے خطرات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے امیر ترین افراد اور نجی ادارے اس شعبے میں کھل کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہ پشت پناہ نہ صرف تاریخی ورثے کو بچانے میں دلچسپی رکھتے ہیں بلکہ وہ اس سے وابستہ سنسنی اور دریافت کے عمل کا بھی بھرپور حصہ بننا چاہتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندروں کی گہرائیوں میں اب بھی اربوں ڈالر مالیت کے نوادرات اور سونے کے ذخائر موجود ہیں جو صدیوں پہلے آنے والے طوفانوں یا جنگوں کے دوران ڈوب گئے تھے۔ جب تک ایسے بااثر اور دولت مند سرپرست ان مہمات کو فنڈز فراہم کرتے رہیں گے، بحری تاریخ کے گمشدہ ابواب کو روشناس کرانے کا یہ سفر جاری رہے گا۔ اگرچہ اس عمل پر کچھ حلقوں کی طرف سے اخلاقی سوالات بھی اٹھائے جاتے ہیں کہ آیا یہ نوادرات نجی ملکیت میں جانے چاہئیں یا نہیں، لیکن اس کے باوجود سرمایہ کاروں کا جوش و خروش کم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔