LIVE
Loading Breaking News...

انٹری لیول نوکریوں کے لیے تجربے کی شرط پر اہم رپورٹ

News Image
ملازمت کے اشتہارات میں انٹری لیول پوزیشنز کے لیے کئی سال کا تجربہ طلب کرنا آج کے دور کا ایک بڑا مذاق بن چکا ہے۔ یہ رجحان دراصل بھرتی کے نظام میں گہرے مسائل اور بدلتی ہوئی کارپوریٹ ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔
آج کے دور میں جب نوجوان گریجویشن کے بعد عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، تو ان کا واسطہ ملازمت کے ایسے اشتہارات سے پڑتا ہے جو کسی مذاق سے کم معلوم نہیں ہوتے۔ سوشل میڈیا پر اکثر ایسے اشتہارات کا مذاق اڑایا جاتا ہے جن میں پوزیشن تو 'انٹری لیول' یعنی ابتدائی درجے کی بتائی جاتی ہے، لیکن ساتھ ہی تین یا چار سال کے تجربے کی شرط بھی عائد کی جاتی ہے۔ بادی نظر میں یہ ایک غلطی محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ جدید جاب مارکیٹ کے ایک بڑے اور تلخ سچ کی غمازی کرتی ہے۔ یہ رجحان ہزاروں کمپنیوں کی طرف سے اختیار کیے جانے والے اس حکمت عملی کا حصہ ہے جو افرادی قوت کی بھرتی کے عمل کو یکسر بدل رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس انوکھے تضاد کی کئی وجوہات ہیں۔ کمپنیاں اکثر ایسے امیدوار چاہتی ہیں جو نوکری کی ابتدا تو بنیادی سطح سے کریں لیکن انہیں تربیت دینے پر وقت اور پیسہ خرچ نہ کرنا پڑے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کم تنخواہ پر زیادہ تجربہ کار اور ہنر مند افراد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض اوقات یہ اشتہارات محض ایک دکھاوا ہوتے ہیں کیونکہ کمپنیاں اندرونی طور پر کسی مخصوص امیدوار کو ملازمت دینے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکی ہوتی ہیں، لیکن قانونی اور رسمی کارروائی کو پورا کرنے کے لیے انہیں پبلک جاب پوسٹ کرنا پڑتی ہے جس کے معیار اتنے سخت رکھے جاتے ہیں کہ عام نوجوان اس پر پورا نہ اتر سکے۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان نئے فارغ التحصیل طلباء کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو پہلے ہی بے روزگاری اور شدید مسابقت کا شکار ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ نوکری کے دروازے ابتدائی درجے پر بھی ان کے لیے بند ہیں کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ تجربہ نہیں ہے، تو ان میں مایوسی پھیلتی ہے۔ دوسری طرف، کاروباری ادارے اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ مارکیٹ میں دستیاب نوجوانوں کے پاس وہ عملی مہارت نہیں ہوتی جو آج کے دور کی ٹیکنالوجی یا کارپوریٹ کلچر کے لیے ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں کمپنیاں خط مول لینے سے گریز کرتی ہیں اور ایسے افراد کی تلاش کرتی ہیں جو کم از کم کسی نہ کسی شکل میں کارپوریٹ ماحول سے واقف ہوں۔ اس مسئلے کا حل اس بات میں پوشیدہ ہے کہ کمپنیاں اور تعلیمی ادارے مل کر کام کریں تاکہ گریجویٹس کو دورانِ تعلیم ہی انٹرن شپ کے مواقع مل سکیں۔ اس طرح جب طالب علم فارغ التحصیل ہوں گے تو ان کے پاس وہ تجربہ ہوگا جو آج کے اشتہارات کا تقاضا ہے۔ بصورت دیگر، انٹری لیول کے نام پر تجربہ مانگنے کا یہ سلسلہ نوجوانوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بنتا رہے گا اور جاب مارکیٹ میں بے یقینی کی فضا کو مزید گہرا کرے گا۔