Health
صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں کی ذہنی صحت کا بحران
ڈاکٹرز اور طبی عملہ جو دن رات مریضوں کی جان بچانے میں مصروف رہتے ہیں، خود شدید ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔ اس خاموش بحران سے نمٹنے کے لیے طبی اداروں میں فوری مددگار نظام کی اشد ضرورت ہے۔
دنیا بھر میں اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں طبی خدمات فراہم کرنے والے افراد یعنی ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر طبی عملہ شدید ذہنی دباؤ اور تناؤ کی زد میں ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب وہ مریضوں کی جسمانی اور ذہنی صحت بحال کرنے کے لیے دن رات ایک کر رہے ہوتے ہیں، ان کی اپنی ذہنی صحت زوال پذیر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسا خاموش بحران ہے جو طویل عرصے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس کے سنگین نتائج اب سامنے آنے لگے ہیں۔
طبی پیشے سے وابستہ افراد کو روزانہ کی بنیاد پر انتہائی کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کام کے طویل اوقات، مریضوں کی زندگیاں بچانے کی بھاری ذمہ داری، اور ہسپتالوں میں وسائل کی کمی جیسے عوامل مل کر ان میں ذہنی تھکن، مایوسی اور ڈپریشن کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مریضوں یا ان کے لواحقین کی طرف سے بعض اوقات ہونے والا نامناسب رویہ بھی طبی عملے کے اعصاب پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے، جس سے ان کی کارکردگی اور ذاتی زندگی دونوں متاثر ہوتی ہیں۔
اس مسئلے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنے ذہنی مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ معاشرتی دباؤ اور پروفیشنل ساکھ خراب ہونے کے ڈر سے وہ اکثر خاموشی سے اس اذیت کو برداشت کرتے رہتے ہیں، جو بعد میں کسی بڑے سانحے یا شدید ذہنی انتشار کا روپ دھار لیتی ہے۔ اس روش کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ طبی اداروں کے اندر کا ماحول ایسا بنایا جائے جہاں ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات کی جا سکے اور بلا جھجھک مدد حاصل کی جا سکے۔
حکومت اور ہسپتالوں کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ طبی عملے کے لیے خصوصی کاؤنسلنگ اور ذہنی معاونت کے پروگرام شروع کریں۔ کام کے اوقات کار کو معقول بنایا جائے اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے۔ اگر ہم اپنے 'کیئر گیورز' یعنی طبی خدمات فراہم کرنے والوں کا خیال نہیں رکھیں گے، تو ہم ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے خواب کو بھی پورا نہیں کر سکتے۔