AI
انٹرنیٹ پر اے آئی کا غلبہ، تیسرا حصہ مصنوعی ذہانت سے تحریر شدہ
نئی تحقیق کے مطابق چیٹ جی پی ٹی کے اجراء کے بعد انگریزی زبان کی ویب سائٹس پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پیو ریسرچ نے لاکھوں ویب پیجز کا تجزیہ کر کے یہ تشویشناک انکشاف کیا ہے۔
پیو ریسرچ کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ ترین تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چیٹ جی پی ٹی کے آنے کے بعد انٹرنیٹ کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق کے مطابق اب انگریزی زبان کے ڈیجیٹل مواد کا تقریباََ ایک تہائی حصہ کسی نہ کسی شکل میں مصنوعی ذہانت سے تحریر کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انسانوں کی بجائے اب مشینوں کی تیار کردہ تحریریں انٹرنیٹ پر تیزی سے جگہ بنا رہی ہیں۔
اس تحقیق کے دوران محققین نے کامن کرال آرکائیو کے ذریعے تقریباً چار لاکھ نوے ہزار انگریزی زبان کے ویب پیجز کا گہرائی سے تجزیہ کیا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ جولائی 2026 کے اسنیپ شاٹ میں کم از کم دس فیصد صفحات ایسے تھے جن میں اے آئی کی مصنفیت کے واضح اور نمایاں شات موجود تھے۔ محققین نے ان تحریروں میں استعمال ہونے والی زبان، الفاظ کے چناؤ اور پیٹرنز کا باریک بینی سے جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سا مواد انسان کا لکھا ہوا ہے اور کون سا روبوٹ یا لارج لینگوئج ماڈلز نے تخلیق کیا ہے۔
اس رجحان کے ڈیجیٹل اکو سسٹم پر دور رس اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف اے آئی کی مدد سے مواد کی پیداوار میں تیزی آئی ہے اور کاروباری اداروں کو سستے اور فوری مضامین مل رہے ہیں، وہیں دوسری طرف انٹرنیٹ پر معلومات کے معیار اور صداقت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار جاری رہی تو مستقبل میں یہ تمیز کرنا مشکل ہو جائے گا کہ کون سی خبر یا معلومات کسی مستند انسان نے لکھی ہے اور کسے محض ایک اے آئی الگورتھم نے جنریٹ کیا ہے۔
مزید برآں، اس تحقیق نے سرچ انجن آپٹیمائزیشن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور صحافت کے شعبوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ قارئین کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ جس مواد کا مطالعہ کر رہے ہیں، اس کا ماخذ کیا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹیکنالوجی کمپنیاں اور ریگولیٹرز اس خودکار مواد کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر لائحہ عمل تیار کرتے ہیں یا نہیں، تاکہ انٹرنیٹ پر انسانی تحریروں کی اصل روح اور تنوع کو برقرار رکھا جا سکے۔