Politics
اڈیالہ جیل میں عمران خان کی سہولیات: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے انکشافات
غیر ملکی میڈیا کی تازہ ترین رپورٹس میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی حالت اور سہولیات سے متعلق دعووں کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے پھیلائے جانے والے بیانیے حقائق کے منافی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس اور ملکی ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید اور ان کو دی جانے والی سہولیات سے متعلق کیے جانے والے دعوے حقائق کے برعکس ثابت ہوئے ہیں۔ مختلف میڈیا ہاؤسز کی تحقیقات اور رپورٹس میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے جیل کے حالات کے حوالے سے ایک مخصوص سیاسی بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے جو زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔
رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ عمران خان کی حمایت میں بیرون ملک سرگرم کچھ اراکین پارلیمنٹ اور لابنگ گروپس مبینہ طور پر مربوط بوٹ حملوں اور سوشل میڈیا مہمات کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ اس مربوط مہم کا مقصد پاکستان کے خلاف اور مخصوص سیاسی فائدے کے لیے عالمی سطح پر غلط معلومات پھیلانا ہے، جس کی قلعی اب غیر ملکی میڈیا کی تحقیقات نے کھول دی ہے۔
پاکستان کے مقامی میڈیا ذرائع نے بھی ان غیر ملکی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ پی ٹی آئی کا یہ جھوٹا بیانیہ اب بے نقاب ہو چکا ہے۔ جیل حکام کی جانب سے متعدد بار یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ قیدیوں کو قانون کے مطابق تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں، تاہم سیاسی مفادات کے تحت جان بوجھ کر افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ عوامی جذبات کو ابھارا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بے بنیاد دعوے ملکی سیاسی صورتحال کو مزید کشیدہ کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی جانب سے ان دعووں کا پردہ چاک کیے جانے کے بعد اب سیاسی حلقوں میں بھی اس پر بحث شروع ہو گئی ہے اور حکومت کی جانب سے بھی اس پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دینے کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔