Technology
چین میں ہیومنائڈ روبوٹس کی تربیت اور عالمی روبوٹ گیمز کا انعقاد
چین میں جدید ترین ہیومنائڈ روبوٹس کو پیچیدہ امور انجام دینے کے لیے بڑے پیمانے پر تربیت دی جا رہی ہے۔ بیجنگ میں منعقدہ روبوٹ گیمز اور تکنیکی پیشرفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ چین اس شعبے میں عالمی قیادت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
چین نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں ایک اور بڑا سنگ میل عبور کرتے ہوئے ہزاروں ہیومنائڈ روبوٹس کی تربیت کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ روبوٹس اب محض فیکٹری کے عام کاموں تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہیں پیچیدہ عملی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ انسانی ماحول میں زیادہ مؤثر انداز میں کام کر سکیں۔ ماہرین کے مطابق، روبوٹس تیز رفتاری سے دوڑنے جیسے کاموں میں تو انسانوں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں، تاہم کیبلز پلگ ان کرنے جیسی نازک مہارتیں سیکھنا ان کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ اسی سلسلے میں بیجنگ میں دوسری عالمی ہیومنائڈ روبوٹ گیمز کا بھی باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جہاں دنیا بھر کی توجہ اسن ٹیکنالوجی کی تازہ ترین ترقی پر مرکوز ہے۔ یہ مقابلے اب محض سائنس کے میلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ایک بڑی اسٹریٹجک نمائش کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران چین کی اس شعبے میں کی جانے والی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ چین کی جانب سے روبوٹکس میں یہ سرمایہ کاری مستقبل کی معیشت اور صنعتی خود کفالت کے حصول کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں یہ تربیت یافتہ روبوٹس نہ صرف صنعتی پیداوار بلکہ روزمرہ کی زندگی میں بھی انسانی معاونت کا ایک ناگزیر حصہ بن جائیں گے۔