LIVE
Loading Breaking News...

یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ملاحوں پر تنقید اور سیاسی تنازعہ

News Image
امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ملاحوں کو سوشل میڈیا پر طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس پر سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ طویل تعیناتی کے باعث جہاز پر موجود اہلکار مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔
امریکی بحریہ کے معروف طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے ملاحوں کو حالیہ دنوں سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس نے ملک میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ وہ ملاح جو اس وقت سمندر میں طویل اور کٹھن مشن پر مامور ہیں، ان کی خدمات کو سراہنے کے بجائے کی بورڈ کے پیچھے بیٹھے کچھ افراد کی جانب سے ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ یہ جنگی جہاز اب تک تقریباً نو ماہ سے زائد عرصے تک اپنی تعیناتی کے دوران سمندر میں موجود ہے اور عملے کو شدید ذہنی و جسمانی دباؤ کا سامنا ہے۔ ماہرین اور عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات سے نہ صرف فوجیوں کا مورال گرتا ہے بلکہ یہ قومی سلامتی کے امور پر غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ سیاسی میدان میں بھی اس معاملے پر گرما گرم بحث شروع ہو چکی ہے اور مختلف رہنماؤں کی جانب سے اس عمل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ملاحوں کے اہل خانہ اور ان کے حامیوں کا مطالبہ ہے کہ فوجیوں کی قربانیوں کا احترام کیا جائے اور انہیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ دوسری جانب، بحریہ کے ترجمانوں اور ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس مشکل ترین تعیناتی کے دوران عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں اور جذبہ مثالی ہے، جو ملک کے دفاع کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ ملکی دفاعی اداروں کا وقار مجروح نہ ہو۔