LIVE
Loading Breaking News...

مائی ڈنر ود آندرے - کلاسک فلم کا جائزہ اور اہمیت

News Image
فلم مائی ڈنر ود آندرے کو سنیما کی تاریخ میں ایک منفرد اور یادگار شاہکار مانا جاتا ہے۔ آرٹ ہاؤس سینما کے دور میں اس فلم کو مختلف زاویوں سے سراہا اور زیر بحث لایا گیا۔
سنہ انیس سو اکیاسی میں ریلیز ہونے والی فلم مائی ڈنر ود آندرے کو سنیما کی تاریخ میں ایک بالکل انوکھے تجربے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ جب یہ فلم آرٹ ہاؤس اور ریپرٹری سنیما کے عروج کے زمانے میں پردہ سکرین پر آئی تو ناظرین اور ناقدین کی طرف سے اس پر انتہائی دلچسپ اور ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ کچھ حلقوں میں اسے سنیما کی دنیا کا ایک مذاق سمجھا گیا تو کچھ نے اسے ایک عجیب و غریب لیکن تخلیقی شاہکار قرار دیا۔ اس فلم کا سب سے بڑا خاصہ اس کا بیانیہ انداز ہے جو روایتی ہالی ووڈ فلموں سے بالکل ہٹ کر ہے۔ فلم کا زیادہ تر حصہ دو افراد کے درمیان ہونے والی طویل گفت و شنید پر مبنی ہے جو ایک ڈنر کے دوران مختلف فلسفیانہ، ذاتی اور معاشرتی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں۔ ناظرین کے لیے یہ تجربہ کسی ایک ہی میز پر گھنٹوں بیٹھ کر سنجیدہ اور گہرے مکالمے سننے کے مترادف بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ فلم سنجیدہ فلم بینوں میں ہمیشہ زیر بحث رہی ہے۔ دہائیوں گزر جانے کے باوجود مائی ڈنر ود آندرے کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ آج بھی جب سنیما کے نایاب اور تجرباتی شاہکاروں کا ذکر ہوتا ہے تو اس فلم کا نام سر فہرست آتا ہے۔ فلم کے ڈائریکٹر اور اداکاروں نے مکالمہ بازی کی جو مثال قائم کی وہ آنے والی فلموں کے لیے ایک گائیڈ لائن بن گئی۔ آرٹ سنیما کے شائقین اس فلم کو آج بھی اسی جوش اور تجسس کے ساتھ دیکھتے ہیں جس طرح اس کی ریلیز کے وقت دیکھا جاتا تھا۔