World
ایرانی صدر کا بیان: جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی یادداشت بہترین راستہ
ایرانی صدر نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی یادداشت موجودہ رکی ہوئی جنگ سے باہر نکلنے کا بہترین اور موثر ترین راستہ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طاقت کی پوزیشن میں رہتے ہوئے اس طویل اور فرسودہ جنگ کو ختم کرنے کا یہ درست وقت ہے۔
تہران: ایرانی صدر نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ امریکی یادداشت (memorandum) موجودہ تعطل کا شکار اور رکی ہوئی جنگ سے باہر نکلنے کا بہترین اور قابل عمل راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امنگوں کی بحالی اور مزید تباہی کو روکنے کے لیے سفارتی ذرائع کو بروئے کار لانا ناگزیر ہو چکا ہے، اور اس سلسلے میں یہ دستاویز ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی قیادت کا یہ موقف خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی کی غمازی کرتا ہے، جہاں فریقین اب طویل المدتی تنازعات کے پرامن حل کی طرف راغب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اس حوالے سے ملک کے سرفہرست سیاستدانوں اور اعلیٰ حکام نے بھی موجودہ صورتحال کا بغور جائزہ لیتے ہوئے جنگ کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت مضبوط پوزیشن میں کھڑا ہے اور طاقت کی اس پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جنگ کے خاتمے کا فیصلہ کرنا ملکی مفاد میں بہترین قدم ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ مسلسل تناؤ سے خطے کے معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، لہذا اب دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ سفارت کاری کو موقع دیا جائے اور عسکری محاذ آرائی کو مستقل بنیادوں پر روکا جائے۔
دوسری جانب، ایرانی وزارت خارجہ اور اعلیٰ عسکری حکام نے بھی کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کا اعادہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ دشمن کی جانب سے اٹھایا جانے والا کوئی بھی نیا اقدام پہلے کی طرح ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن ساتھ ہی علاقائی امن کے قیام کے لیے تمام مثبت سفارتی تجاویز کا خیرمقدم بھی کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فریقین اس امریکی یادداشت اور اس میں موجود تجاویز کو سنجیدگی سے نافذ کرتے ہیں، تو طویل عرصے سے جاری اس کشیدگی میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں تہران اور واشنگتن کے درمیان ہونے والے ان ممکنہ رابطوں اور پیش رفت پر مرکوز ہیں، جو خطے میں ایک نئے امن دور کا آغاز کر سکتے ہیں۔ آنے والے چند دن اس تنازع کے مستقبل اور سفارتی کوششوں کے بارآور ہونے کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔