LIVE
Loading Breaking News...

طارق رحمان کا دورہ اور بنگلہ دیش بھارت تعلقات کا بحران

News Image
بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی نئی دہلی میں موجودگی پر تنازعہ برقرار ہے۔ اس تنازعے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر پیش رفت متاثر ہو رہی ہے۔
نئی دہلی اور ڈھاکہ کے درمیان سفارتی تعلقات ایک بار پھر شدید کشیدگی کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، بنگلہ دیشی قیادت کے متوقع دورے کا التوا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دونوں ممالک کے مابین بعض بنیادی نوعیت کے تنازعات تاحال حل طلب ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے بڑا اور بنیادی تنازعہ بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی نئی دہلی میں موجودگی کا ہے، جسے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جب تک اس بنیادی سوال کا کوئی سفارتی حل تلاش نہیں کیا جاتا، اس وقت تک دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دوروں اور دو طرفہ مذاکرات کا بحال ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے ہی نئی دلی اور ڈھاکہ کے درمیان باہمی اعتماد کے بحران میں اضافہ ہوا ہے۔ سابق وزیر اعظم کی بھارت میں پناہ اور وہاں سے ان کی سیاسی سرگرمیوں پر بنگلہ دیشی عوام اور نئی حکومت کی جانب سے گہرے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جو دونوں ممالک کے روایتی تعلقات پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ دوسری جانب، بھارتی وزارتِ خارجہ کی طرف سے اس معاملے پر تاحال کوئی انتہائی سخت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جانب سے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں جاری ہیں۔ خطے کے امن اور استحکام کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دونوں ممالک افہام و تفہیم کے ذریعے اس تعطل کو ختم کریں اور باہمی تعاون کے نئے دروازے کھولیں۔ اگر یہ تنازعہ زیادہ طویل ہوا تو اس سے نہ صرف دو طرفہ تجارت بلکہ سکیورٹی کے امور پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔