Pakistan
عمران خان کی طبیعت اور پمز اسپتال میں سی ٹی انجیوگرافی کا تنازع
پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کا سی ٹی اینجیو گرافی کا ٹیسٹ فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال میں ٹیسٹ کی سہولت موجود ہونے کے باوجود اسے جان بوجھ کر روکا گیا جو تشویشناک ہے۔
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے جیل میں قید بانی چیئرمین عمران خان کا سی ٹی کورونری انجیوگرافی ٹیسٹ فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب چند روز قبل عمران خان کو طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے ان کے دل کی سی ٹی انجیوگرافی تجویز کی تھی، تاہم اسپتال عملے کا کہنا تھا کہ یہ سہولت دستیاب نہیں ہے۔ اس کے بعد سابق وزیراعظم کو بغیر ٹیسٹ کے واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا جس پر پی ٹی آئی کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے انفارمیشن سیکریٹری شیخ وقاس اکرم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کے اپنے طبی بورڈ اور امراض قلب کے ماہرین نے یکم اگست کو ہی عمران خان کے لیے سی ٹی کورونری انجیوگرافی تجویز کی تھی کیونکہ ان کا بلڈ پریشر مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہے اور انہیں دیگر طبی مسائل بھی لاحق ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز لے جایا گیا اور وہاں بھی ٹیسٹ نہیں کیا گیا، جبکہ پمز کے ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ میں مطلوبہ اسکینر پہلے سے موجود ہے۔
ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس بات کا تعین کرے گی کہ پمز میں ٹیسٹ کیوں نہیں کیا گیا اور اس میں کس کی غفلت شامل تھی۔ تاہم پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ محض ایک انتظامی غفلت نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کو خطرے میں ڈالنے کی دانستہ کوشش ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کا سی ٹی انجیوگرافی ٹیسٹ آزاد طبی ماہرین اور ان کے ذاتی معالجین کی نگرانی میں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کرایا جائے۔
ترجمان پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت کو سیاسی مصلحتوں یا انتظامی تاخیر کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی تمام طبی رپورٹس ان کے اہل خانہ، ذاتی ڈاکٹروں اور قانونی ٹیم کو فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے پایا جانے والا ابہام دور ہو سکے۔ پی ٹی آئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر سابق وزیراعظم کی صحت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔