World
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، چار سالہ بچے سمیت دو افراد شہید
فلسطینی طبی حکام کے مطابق غزہ میں تازہ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک چار سالہ معصوم بچے سمیت دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ علاقے میں جاری کشیدگی اور حملوں کے باعث عام شہریوں کی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
فلسطینی طبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ غزہ کی پٹی پر کیے جانے والے تازہ ترین اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک چار سالہ معصوم بچہ بھی شامل ہے، جس کی ہلاکت نے علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ حملے کے بعد امدادی ٹیمیں اور مقامی شہری فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور متاثرین کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کی۔ عینی شاہدین کے مطابق اس حملے میں کئی دیگر افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
غزہ میں جاری اس تازہ ترین خونریزی نے ایک بار پھر انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کی توجہ اس تنازعے کے سنگین اثرات کی طرف مبذول کروائی ہے۔ جنگ سے متاثرہ اس علاقے میں معصوم بچوں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں معمول بنتی جا رہی ہیں جبکہ طبی نظام پہلے ہی ادویات اور طبی سامان کی شدید کمی کا شکار ہے۔ ہسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مقامی طبی عملہ محدود وسائل کے باوجود متاثرین کی دیکھ بھال میں دن رات مصروف ہے۔
بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے فریقین سے فوری طور پر تشدد کا سلسلہ بند کرنے اور عام شہریوں بالخصوص بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم زمینی حقائق کے مطابق غزہ کے مختلف علاقوں میں گولہ باری اور فضائی حملوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جس کی وجہ سے عام شہریوں کا جینا محال ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے لاکھوں افراد کو شدید نفسیاتی اور جسمانی مسائل سے دوچار کر رکھا ہے جبکہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی مشکلات میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔