World
فلوریڈا کے آرکیٹیکٹ جیفری ہوبر کی طوفان سے محفوظ عمارتیں
جیفری ہوبر نے بچپن میں سمندری طوفان اینڈریو کے دوران اپنے گھر کی چھت اڑتے ہوئے دیکھی تھی۔ آج وہ ایک معروف آرکیٹیکٹ ہیں جو مستقبل کے طوفانوں کا مقابلہ کرنے والی عمارتیں ڈیزائن کر رہے ہیں۔
آج سے چونتیس سال پہلے کا ایک دن جیفری ہوبر کو آج بھی اچھی طرح یاد ہے، جب ایک صبح ان کا گھر بغیر چھت کے رہ گیا تھا۔ طاقتور سمندری طوفان اینڈریو نے ان کے بچپن کے گھر کی چھت اڑا دی تھی، جو ان دسیوں ہزار عمارتوں میں شامل تھا جو اس تباہ کن آفت کی زد میں آئیں۔ اس المناک تجربے نے کم عمر جیفری کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑے اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے ان کے مستقبل کے کیریئر اور زندگی کی سمت کا تعین کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بڑے ہوئے اور انہوں نے تعمیرات اور فنِ تعمیر کو اپنا پیشہ بنایا، تاکہ وہ ایسی راہیں تلاش کر سکیں جن سے انسانی جانوں اور املاک کو اس قسم کے قدرتی نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
آج جیفری ہوبر فلوریڈا کے ایک معروف ماہرِ تعمیرات اور اربن ڈیزائنر بن چکے ہیں، جو آنے والے خطرناک طوفانوں کے پیشِ نظر جدید اور لچکدار عمارات ڈیزائن کر رہے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ایسی تعمیراتی حکمت عملی وضع کرنا ہے جو تیز ترین ہواؤں اور شدید طوفانی بارشوں کے دباؤ کو برداشت کر سکے۔ وہ عمارتوں کی بنیادوں، چھتوں کے ڈھانچے اور بیرونی حصوں میں ایسے جدید مواد کا استعمال کر رہے ہیں جو موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کا کامیابی سے مقابلہ کر سکیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ہمیں قدرت کے روبرو ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے تعمیراتی طریقوں میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی تاکہ آنے والی نسلیں محفوظ رہ سکیں۔
ان کے اس عزم نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی تعمیراتی حلقوں میں بھی توجہ حاصل کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سمندری طوفانوں کی شدت میں اضافے کی وجہ سے جیفری ہوبر جیسے ماہرینِ تعمیرات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ وہ جدید ٹیکنالوجی اور روایتی طریقوں کو ملا کر ایسے پائیدار شہر آباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کسی بھی بڑے طوفان کی صورت میں کم سے کم نقصان اٹھائیں۔ فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں ان کے ڈیزائن کردہ منصوبے اب دیگر ماہرین کے لیے بھی ایک مثال بن چکے ہیں، جو طوفان سے بچاؤ کی بہترین عملی صورت پیش کرتے ہیں۔