Technology
ٹک ٹاک کا بچوں کی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر 400 ملین ڈالر کا جرمان
امریکی محکمہ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ مقبول ویڈیو ایپ ٹک ٹاک اور اس کی ہولڈنگ کمپنی بائٹ ڈانس بچوں کی رازداری کے وفاقی قوانین کی خلاف ورزیوں کا تصفیہ کرنے کے لیے 400 ملین ڈالر ادا کریں گے۔ یہ معاہدہ نابالغ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے معاملے پر قانونی کارروائی کے بعد طے پایا ہے۔
ٹک ٹاک اور اس کی بنیادی کمپنی بائٹ ڈانس نے بچوں کی رازداری سے متعلق وفاقی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کا تصفیہ کرنے کے لیے 400 ملین ڈالر کی بھاری رقم ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے جمعہ کے روز اس بات کا باضابطہ اعلان کیا ہے کہ یہ تصفیہ نابالغ صارفین کے حقوق اور آن لائن ڈیٹا پروٹیکشن کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد نوجوان صارفین کی ڈیجیٹل سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور کمپنیوں کو قوانین کا پابند بنانا ہے۔
اس قانونی تنازعے کی جڑیں اس بات پر تھیں کہ آیا ٹک ٹاک نے کم عمر بچوں کے ذاتی ڈیٹا کو مناسب قانونی اجازت کے بغیر اکٹھا کیا یا نہیں۔ امریکی قوانین کے تحت بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے تحفظ کے لیے سخت ضابطے بنائے گئے ہیں جن کی خلاف ورزی پر بھاری مالی جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ محکمہ انصاف اور متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد فریقین کے درمیان یہ تصفیہ طے پایا ہے، جس کے تحت اب ٹک ٹاک کو ریکارڈ رقم ادا کرنی ہوگی۔
ٹک ٹاک اور بائٹ ڈانس نے اس معاہدے کے بعد اپنے نظام کو مزید محفوظ بنانے اور مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لیے نئے حفاظتی اقدامات متعارف کرانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ سوشل میڈیا کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا اور دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں کو بھی نابالغ صارفین کے ڈیٹا کے معاملے میں مزید محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرے گا۔