World
فلسطین امن: پاکستان اور سعودی عرب کا اردن کی تجویز کا خیرمقدم
پاکستان اور سعودی عرب نے فلسطین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے اردن کی جانب سے عرب اسلامی اجلاس بلانے کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس بات کا اظہار پاکستانی اور اردنی وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے میں کیا گیا۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان اور سعودی عرب نے فلسطین کے دیرینہ اور حساس مسئلے پر اردن کی جانب سے ایک اہم عرب اسلامی اجلاس بلانے کی تجویز کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔ اس سفارتی پیشرفت کا مقصد غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستانی اور اردنی وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطے کے دوران خطے کی تازہ ترین صورتحال، سفارتی کوششوں اور غزہ کے بحران پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ عالمی برادری کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف فوری اور موثر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ قبل ازیں پاکستان اور ترکیہ نے بھی غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور مسجد اقصی کی حرمت پامال کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ دوسری جانب پاکستانی اور مصری وزرائے خارجہ نے بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور انسانی المیے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان، سعودی عرب، اردن، مصر اور دیگر اہم مسلم ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے یہ رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلم دنیا فلسطینی کاز کے لیے ایک مشترکہ اور مضبوط مؤقف اپنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اردن کی تجویز پر بلائے جانے والے اس ممکنہ عرب اسلامی اجلاس میں خطے میں پائیدار امن کے قیام اور غزہ کے عوام کی امداد کے لیے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ پاکستان نے ہمیشہ دو ریاستی حل کی حمایت کی ہے اور وہ عالمی فورمز پر مسئلہ فلسطین کو بھرپور طریقے سے اٹھاتا رہا ہے۔