Technology
بھارتی فضائیہ کی دفاعی منصوبہ بندی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال
بھارتی فضائیہ دفاعی منصوبہ بندی کو بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹوئنز کا سہارا لے رہی ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد مختلف جنگی منظرناموں کی پیش گوئی کرنا اور فیصلہ سازی کے عمل کو مزید موثر بنانا ہے۔
بھارتی فضائیہ نے مستقبل کے سکیورٹی چیلنجز اور دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے ایک بیان میں انکشاف کیا ہے کہ فضائیہ میں دفاعی منصوبہ بندی کے نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے پریڈکٹیو اے آئی اور ڈیجیٹل ٹوئنز جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کو شامل کیا جا رہا ہے۔ ان جدید سسٹمز کی مدد سے فضائیہ کو مختلف جنگی اور دفاعی منظرناموں کی پیش گوئی کرنے میں بڑی مدد مل رہی ہے، جس سے کمانڈرز کو بروقت اور بہتر فیصلے کرنے کا موقع فراہم ہوتا ہے۔ جدید ترین دفاعی حکمت عملیوں میں اب روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ماڈلز کا استعمال ناگزیر ہوتا جا رہا ہے تاکہ ممکنہ خطرات کا پہلے سے اندازہ لگایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ٹوئنز ٹیکنالوجی کسی بھی حقیقی نظام یا آلے کا ایک ہو بہو ڈیجیٹل عکس تیار کرتی ہے، جس پر مختلف تجربات کر کے کمیوں اور خامیوں کو پہلے ہی دور کیا جا سکتا ہے۔ فضائیہ کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کا مقصد آپریشنل تیاریوں کو بڑھانا اور کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کرنا ہے۔ ایئر چیف مارشل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دفاعی شعبے میں ڈیٹا کا اشتراک اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ڈیٹا کے موثر تجزیے کے ذریعے مستقبل میں دہرائے جانے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں فضائیہ کے مختلف شعبوں میں ڈیٹا اینالیٹکس کے استعمال کو بھی وسعت دی جا رہی ہے۔
مستقبل کے جنگی میدان تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں جہاں روایتی طاقت کے ساتھ ساتھ سائبر سکیورٹی اور اے آئی سسٹمز کی برتری فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ بھارتی فضائیہ کا یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ وہ عسکری صلاحیتوں میں خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف جنگی تیاریوں میں بہتری آئے گی بلکہ دفاعی سازوسامان کے رکھ رکھاؤ اور مرمت کے امور میں بھی وقت اور وسائل کی بچت ہوگی۔ فضائیہ کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے سے ہی آنے والے وقت کے چیلنجز کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے، اور اسی سمت میں یہ پیشرفت ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔